سیاح قتل کیس میں پندرہ ملزمان کی نشاندہی

Image caption نانگاپربت بیس کیمپ میں مسلح افراد کے حملے میں دس غیر ملکیوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو دیامر میں دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس میں ملوث پندرہ افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔

دیامر واقعے پر گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری اور آئی جی گلگت بلتستان عثمان زکریا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پندرہ دہشت گردوں میں سے دس کا تعلق دیامر سے ہے جبکہ تین کا تعلق ضلع چلاس سے اور دو کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔

انھوں نے بتایاکہ اس واقعہ سے متعلق اب تک کی جانے والی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شدت پسندوں نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں تربیت حاصل کی تھی تاہم ان افسران نے اُس جگہ کے بارے میں نہیں بتایا کہ اُنہوں نے کہاں تربیت حاصل کی اور اُنہیں تربیت دینے والوں کا تعلق کس تنظیم سے تھا۔

اسلام آباد میں ہمارے نمائندے کے مطابق آئی جی گلگت بلتستان عثمان زکریا کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کا سرغنہ عبدالمجید ہے جو اس سے پہلے بھی متعدد واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔

اتوار کو مسلح افراد نے نانگا بربت کے بیس کیمپ میں حملہ کر کے دس غیر ملکیوں سمیت گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ طالبان سے منسلک ایک گروہ نے کیا۔

آئی جی عثمان زکریا کا کہنا تھا کہ ان افراد کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان علاقے میں ہی موجود ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے ۔

گلگت بلتستان کی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے دیامر کے امن جرگے کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ دشوار گزار پہاڑی راستوں میں دہشت گرد ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے۔آئی جی کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے 35 مشکوک افراد سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران فوج نے صف اول کی فورس کا کردار ادا کیا ہے اور تین سے چار ہیلی کاپٹر آپریشن کی فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں