قومی اسمبلی سے وفاقی بجٹ منظور

Image caption آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے عوام پر مزید ٹیکس نہیں لگائیں گے: اسحٰق ڈار

پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو آئندہ مالی سال کے لیے 35کھرب 91ارب روپے کی مجموعی مالیت کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی بجٹ کی منظوری اکثریتی ووٹ سے ہوئی۔ تاہم حکومت نے حزب اختلاف کی جانب سے تجویز کردہ تمام ترامیم مسترد کردیں۔

قومی اسمبلی میں مالیاتی بل 2013ءپر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے عوام پر مزید ٹیکس نہیں لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ٹیکسوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہم نے انہیں بتایا ہے کہ ہماری حکومت مزید ٹیکس نہیں لگائے گی۔ ہم ٹیکس چوری روکیں گے اور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھائیں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سپیکر اور چیئرمین کی تنخواہوں اور مراعات کا تعین 1975ءکے ایکٹ کے تحت فنانس بل کے ذریعے ہونا تھا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ پیش ہونے کے فوری بعد ٹیکسوں کا نفاذ ہر حکومت کی روایت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنانس بل کے ذریعے 13 جون سے22 جون تک جمع ہونے والے ٹیکس کو قانونی جواز فراہم کیا ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز نہیں کیا۔

’ہم نے 22 جون کو ٹیکس لینا بند کر دیا تھا مگر جو ٹیکس جمع ہو گیا تھا اس کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے فنانس بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جمع ہونے والے ٹیکسوں کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس سے اڑھائی سے 3 ارب کا نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں