سندھ میں میجسٹریٹ کا نظام بحال

Image caption سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی درخواست پر مجسٹریٹ کے اختیارات بحال کیے ہیں

پاکستان کے صوبے سندھ میں میجسٹریٹ نظام بحال کر دیا گیا ہے جس کے بعد سول بیورو کریسی کو بھی عدالتی اختیار حاصل ہوگئے ہیں۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار ایک میں لوکل باڈیز آرڈیننس کا نفاذ کر کے کمشنری نظام اور بیوروکریسی کو حاصل میجسٹریٹ کے اختیارات واپس لے لیے تھے۔

گزشتہ سال سندھ حکومت نے کمشنری نظام بحال کیا اور جمعرات کو انھیں میجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوگئے۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی درخواست پر یہ اختیارات بحال کیے ہیں۔ اب ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار فرسٹ کلاس میجسٹریٹ اور اسسٹنٹ مختیاکار سیکنڈ کلاس میجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کر سکیں گے۔

سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے بتایا کہ یہ میجسٹریٹ ناجائز تجاویزات، اشیا کی قیمتوں میں اضافے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے اور ذخیرہ اندوزں کی شکایت پر کارروائی کر سکیں گے، انہیں جرمانہ اور ملزمان کی گرفتاری کے بھی اختیارات حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میجسٹریٹ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔

کراچی جنوبی کے ڈپٹی کمشنر مصطفیٰ قاضی کا کہنا تھا کہ ان اختیارات کے بغیر بیورکریسی کو بے اختیار کر دیا گیا تھا لیکن عدلیہ نے ان پر اعتماد کر کے یہ اختیارات بحال کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپیشل میجسٹریٹ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کر سکتے ہیں لیکن انہیں مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا، یہ مقدمات چلانے کے لیے صوبہ بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

ڈپٹی کمشنر مصطفیٰ قاضی نے جو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مشیر عالم کی زیر صدارت اجلاس میں شریک تھے تسلیم کیا کہ ماضی میں ان اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا لیکن اب ہائی کورٹ کی انسپیشکن ٹیم ان اختیارات کے استعمال کی نگرانی کرے گی اور اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سیشن ججز کے ساتھ باقاعدگی کے سات میٹنگ ہوں گی۔

اسی بارے میں