’انتظامی خود مختاری سے ابھی تک محروم‘

Image caption امن و امان کے لیے مزید بیس ہزار پولیس اہلکار بھی بھرتی کیے جا رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز ان کے ماتحت نہیں ہیں۔

سید قائم علی شاہ نے جمعہ کو سندھ اسمبلی سے خطاب میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو کچھ مالی خودمختاری ضرور ملی ہے لیکن انتظامی خود مختاری سے ابھی تک محروم ہیں۔

’ آئی جی سندھ، چیف سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز کی تعیناتی وفاقی حکومت کرتی ہے، صوبائی حکومت چاہے تو انہیں سزا نہیں دے سکتی‘۔

کراچی میں صوبائی حکومت کی درخواست پر طلب کی گئی رینجرز کے سربراہ کے بارے میں وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز ان کے ماتحت نہیں ہیں، اگر وہ ملاقات کرنا چاہیں تو یہ ڈی جی کی مرضی ہے کہ وہ آئیں یا نہ آئیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ حکومت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مشرف دور حکومت میں پولیس کو پیچھے رکھ کر رینجرز کو آگے کر دیا گیا اس وقت امن و امان کے حوالے سے وفاق جو چاہتا وہ ہوتا تھا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ ان کے سو کارکن لاپتہ ہیں، اس الزام میں کوئی بھی صداقت نہیں ہے۔

’انہوں نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے معملومات حاصل کی ہیں۔جو ملزمان گرفتار ہوئے ہیں وہ ان کے نام منظر عام پر لائیں گے، اگر ایم کیو ایم ان کو اپنا تسلیم کرتی ہے تو ان کی مرضی‘۔

انہوں نے ایم کیو ایم کو دوبارہ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ واپس سرکاری بینچوں پر آجائیں۔

’ آپ جلد ناراض ہو جاتے ہیں حالانکہ ہم نے تو ہر کام آپ کی رضا سے کیا ہے۔‘

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام ان کی حکومت کی اولیت ہے اسی لیے بجٹ میں 48 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، مزید بیس ہزار پولیس اہلکار بھی بھرتی کیے جا رہے ہیں کیونکہ دو کروڑ کی آبادی کے لیے تیرہ سے چودہ ہزار پولیس اہلکار ناکافی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ جسٹس مقبول باقر کو دوسرے ججوں کے مقابلے میں زیادہ سکیورٹی فراہم کی گئی تھی، یہ ہی وجہ ہے کہ اس واقعے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت زیادہ ہوئی ہے۔

’ہم نے چیف جسٹس کو کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ انہیں کیا سکیورٹی چاہیے، جج صاحبان کو بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔‘

سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزراء کو بھی خطرہ ہے، دہشت گردی کے سدباب کے لیے ایوان کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا، سیاسی مشاورت کے لیے حکومت نے کل جماعتی کانفرنس بھی طلب کی ہے۔

اسی بارے میں