’توانائی پالیسی کو حتمی شکل آج دی جائے گی‘

Image caption وفاقی وزیر نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالہ سے کہا کہ جب تک تمام صوبے متفق نہ ہوں اس منصوبے پر پیش رفت نہیں ہوسکتی

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویزرشید نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں جمعہ کو ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے توانائی پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔

پالیسی میں فوری، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات نے جمعرات کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے توانائی پالیسی تیار کی ہے جسے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں جمعہ کو پیش کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ نئی انرجی پالیسی میں کوئلے، گنے کے پھوک اور شمسی توانائی سے بجلی پیداکرنے کے منصوبے شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی یہ بھی کوشش ہوگی کہ بجلی پیدا کرنے والے ان یونٹس کو تیل کی فراہمی میں ترجیح دے جن کی استعداد اچھی ہے اور جو کم تیل میں زیادہ بجلی بناتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ’انرجی مکس‘ بگڑ چکا ہے، 60 فیصد تھرمل اور40 فیصد ہائیڈروسے بجلی بن رہی ہے اور بجلی کی پیدوار اور قیمت فروخت میں فرق سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالہ سے کہا کہ جب تک تمام صوبے متفق نہ ہوں اس منصوبے پر پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

وفاقی وزیرِطلاعات نے کہا کہ 70 اور 30 کی شرح سے ’انرجی مکس‘ بنتا ہے جس میں 70 فیصد بجلی پانی، سورج، ہوا اور کوئلے کے ذرائع سے بنتی ہے جبکہ 30 فیصد بجلی کی پیداوار کے لیے تیل پر انحصار کیاجاتا ہے لیکن پاکستان میں 60 فیصد بجلی تیل سے اور تقریباً 35 فیصد پانی سے پیدا کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کا ایک یونٹ 14 روپے60 پیسے میں تیار ہوتا ہے جبکہ اسے سات یا آٹھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پیداوار اور فروخت کی قیمتوں کے درمیان فرق کو حکومت پورا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سال میں بجلی کی قیمت کے پیداواری فرق کی مد میں 13 سو ارب روپے ادا کے گئے جبکہ اب 503 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ تقریباً 15 روپے فی یونٹ کی بجلی پیدا ہوتی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی کر دی جائے لیکن ایسا کرنے سے صنعت کے لیے مسابقت کا ماحول باقی نہیں رہتا اور مزید بیروزگاری بڑھے گی۔

سنیٹر پرویز رشید نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھانا بھی حل نہیں اس لیے سستی بجلی پیدا کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ایک ہائیڈرو منصوبہ 10 سال سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا، کوئلے والا منصوبہ اڑھائی تین سال میں تیار ہو سکتا ہے اور اس کی فی یونٹ بجلی 10 روپے میں تیار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہاکہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر تختی لگا دی گئی لیکن اس منصوبے کا فنانشنل پلان نہیں دیاگیا۔

انھوں نے کہا کہ اب حکومت سرمایہ کاروں کی تلاش میں ہے، ایران پر پابندیاں بھی ہیں، سرمایہ کاروں کی تلاش کی کوشش کامیاب نہ ہونے پر حکومت اپنے ذرائع سے وسائل کی دستیابی کی کوشش کریں گے لیکن پہلے اپنی اقتصادیات میں کچھ جان ڈالنا پڑے گی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں آئندہ تین سال میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

اسی بارے میں