کوئٹہ: قبرستان سے تین لاشیں برآمد

Image caption بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام سے اب تک تقریبا دس سے زیادہ نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تین نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں ہیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

چاروں لاشوں پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات موجود نہیں ہیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پولیس اہلکاروں کو ہفتے کی صبح کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون سے نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ان تین افراد کو سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ایک مقامی پولیس افسر نے بتایا کہ نامعلوم افراد کو گولیاں مار کر سیٹلائٹ ٹاون کے مقامی قبرستان میں پھینک دیا گیا تھا جبکہ اُنہیں قتل کرنے وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا قبرستان سے ملنے والے تینوں لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

تاہم پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے مارے جانے والے تینوں افراد کی عمر تیس سے پنتیس سال کے درمیان ہے اور وہ بظاہر حلیے سے افغانی معلوم ہوتے ہیں۔

پولیس نے تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کوئٹہ کے سول ہسپتال بھجوا دیا ہے۔

سیٹلائٹ ٹاون کے علاقے سے مُتصل غوث آباد کی آبادی ہے جہاں افغانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔

بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے جبری گم شدگیوں اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

صوبے میں نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جبکہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد صوبے میں مسخ شدہ لاشیں ملنے کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مسخ شدہ لاشیں، ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی شدت پسندی، اغواء برائے تاوان اور لوگوں کے نقل مکانی وہ مسائل ہیں جو میرے لیے اور اس ایوان کے لیے کوہ ہمالیہ سے زیادہ وزنی ہیں۔‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنمان سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی صورتِ حال میں بہتری لانے کے لیے حوالے سے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ صوبے میں خفیہ اداروں کی مداخلت بند کی جائے اور ایجنسیوں کے ڈیتھ سکواڈ کا خاتمہ کیاجائے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی بدامنی کے واقعات میں ملوث ہیں تو اُسے عدالتوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں