’رمشا مسیح کینیڈا منتقل ہوگئیں ہیں‘

Image caption اگست دو ہزار بارہ میں رمشا مسیح کو کئی ہفتوں کے لیے حفاظتی تحویل میں رکھا گیا تھا

ایک مسیحی تنظیم کے مطابق پاکستان میں توہینِ مذہب کے غلط الزام سے بری ہونے والی مسیحی بچی رمشا مسیح اپنے گھر والوں کے ساتھ کینیڈا چلی گئی ہیں۔

رمشا مسیح پر مقدس مذہبی اوراق نذرِ آتش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور ان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسیحی لڑکی رمشا مسیح کا نام مقدمے سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔

اگست دو ہزار بارہ میں رمشا مسیح کو کئی ہفتوں کے لیے حفاظتی تحویل میں رکھا گیا تھا۔

اس مقدمے پر بین الاقوامی برادری نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اسلام آباد کے گاؤں میرا جعفر کی رہائشی رمشا کو گذشتہ برس سولہ اگست کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

رمشا مسیح اب کینیڈا میں مقیم ہیں تاہم کینیڈا میں اُن کی رہائش کے بارے میں مخصوص معلومات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔

کینیڈا میں ایک عیسائی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ رمشا انگریزی سیکھ رہی ہیں اور سکول جا رہی ہیں۔ کارکن کا کہنا تھا کہ ’اب وہ آزاد ہیں۔‘

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار اورلہ گیورِن کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے سخت قوانین کے تحت اقلیتوں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ ان قوانین میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں ان قوانین کے خلاف آواز اٹھانے والے کم از کم دو اہم سیاستدانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں