خیبر پختونخواہ میں دو سکول تباہ

فائل فوٹو
Image caption خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ساڑھے سات سو سے زیادہ سکولوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں نیم قبائلی علاقے کے قریب دو پرائمری سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لکی مروت میں کچھ عرصہ سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ساڑھے سات سو سے زیادہ سکولوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق ضلع لکی مروت میں غزنی خیل تھانے کی حدود میں نامعلوم افراد نے دو پرائمری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا ہے۔

ایک سکول کو پہاڑخیل پکا کے مقام پر نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دو کمرے اور ایک برآمدہ تباہ کردیاگیا ہے ۔ دوسرا پرائمری سکول بھی غزنی خیل تھانے کی حدود میں ہی واقع ہے جس میں تین کمرے اور ایک برآمدہ مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔

لکی مروت میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں بھاری نقصانات ہوئے ہیں جن میں شاہ حسن خیل میں والی بال کھیلنے والے لڑکوں کے قریب خود کش دھماکہ اور لکی مروت پولیس تھانے پر حملہ نمایاں ہیں۔

لکی مروت میں گزشتہ ایک سال کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ضلع لکی مروت میں سن دو ہزار نو سے اب تک ایک درجن سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ گزشتہ پانچ سالوں سے جاری ہے اور سرکاری حکام کے مطابق اب تک صوبے میں ساڑھے سات سو سکول تباہ کیے جا چکے ہیں جن میں چھ سو سے زیادہ سکولوں کو ملاکنڈ ڈویژن میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

حکومت کا یہ دعوی رہا ہے کہ ڈھائی سکولوں کی مرمت کا کام شروع کیا جا چکا ہے جن میں کچھ کو مکمل کر دیا گیا ہے لیکن بڑی تعداد میں تباہ شدہ سکولوں کی مرمت کا کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔

اسی بارے میں