عرب دنیا میں تبدیلیاں

عرب نوجوان

’دی عرب اویکننگ: اسلام اینڈ دی نیو مِڈل اِیسٹ‘

مصنف: طارق رمضان

ناشر: پنگؤین بُکس

آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامی علوم کے پروفیسر طارق رمضان نے دو ہزار بارہ میں شائع ہونے والی اپنی اس کتاب میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مملک میں دسمبر دو ہزار دس سے شروع ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا احاطہ کیا ہے۔

طارق رمضان کی اپنی زبان میں اس کتاب کے ذریعے انہوں نے ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے جن کو عرب دنیا میں پھیل جانے والی احتجاج کی لہر نے جنم دیا ہے۔ وہ اس احتجاج کو ’انقلاب‘ کا نام دینے سے گریزاں ہیں۔

انہوں نےکتاب کے پیش لفظ میں کہا ہے کہ انہیں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح آمروں کے اقتدار کے خاتمے پر خوشی ہوئی تھی، لیکن واقعات کے بغور جائزے بعد وہ محتاط رائے قائم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے عرب دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے وابستہ حقائق پر نگاہ ڈالی ہے۔

طارق رمضان نے اپنی کتاب میں دیکھا ہے کہ عرب دنیا میں شروع ہونے والی احتجاج میں مغرب خاص طور پر امریکہ کا کیا کردار ہے۔ انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ سیاسی تبدیلیوں کا یہ عمل کتنا غیر متوقع تھا اور اس کی کس حد تک پیشینگوئی کی جا سکتی تھی۔اس احتجاج کو منظم کرنے والی اور جاری رکھنے والے نوجوان کون تھے؟

طارق رمضان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت معتارف کروانے کی بات نئی نہیں تھی۔ اس کا ذکر پہلی بار دسمبر دو ہزار دس میں تیونس میں ایک نوجوان کی خود سوزی کے بعد شروع ہونے والے احتجاج سے بہت پہلے سن دو ہزار تین میں اس وقت کے امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بُش نے کیا تھا۔ صدر بُش نے عراق کی جنگ کو وسیع تر مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کی طرف پہلا قدم کہا تھا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اپنی پیشقدمی کو ایک اور سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن کی مشرقی یورپ میں انیس سو اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی جمہوری تحریکوں کی حمایت سے مشابہہ قرار دیا تھا۔

طارق رمضان کہتے ہیں کہ خِطّے میں امریکہ اور یورپ کی پالیسی تبدیل ہونے والی تھی اور ان کی خواہشات کسی سے پوشیدہ نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کے بعد ایک امریکی حکومت واضح کر چکی تھی عرب دنیا کی منڈیوں کو عالمی اقتصادی نظام کا حصہ بنانے کے لیے خطے کی آمریتوں کو بدلنا ہوگا۔ چین، انڈیا، جنوبی افریقہ، لاطینی امریکہ اور ترکی کی اقتصادی ترقی بھی امریکی اور یورپی سوچ کی تبدیلی کی ایک وجہ تھی۔

تاہم طارق رمضان کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود عرب ممالک میں شروع ہونے والی لہر کو مغربی سازش کہنا غلط ہے اور یہ رائے منفی سوچ کی عکاس ہے۔

طارق رمضان نے کتاب کا بڑا حِصّہ اس نقطے پر صرف کیا ہے کہ آمرتیوں سے نجات پانے کے بعد عرب نوجوانوں کو کون سا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ان کی رائے میں ایسا انہیں مروجہ عالمی اقتصادی نظام سے بچتے ہوئے کرنا ہوگا اور یہ کہ ترقی کا واحد قابل عمل ماڈل مغرب کا مروجہ نظام نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عرب ممالک میں عوامی مظاہروں کو بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ، سماجی رابطوں کے جدید ذرائع، موبائل فون اور کئی بار ٹیلی ویژن کا سہارا بھی رہا اور یہ سب چیزیں حکومتوں، نجی اداروں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے یا تو کنٹرول میں رہتی ہیں یا ان کا ان میں پیسہ لگا ہوتا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ اس صورتحال میں سوچنا سادگی اور انتہائی خطرناک ہو گا کہ عرب دنیا نے بغیر وجہ یا سیاسی اور اقتصادی منطق کے اپنے آپ کو جھنجوڑ دیا ہے۔

تاہم طارق رمضان نے سوال اٹھایا ہے کہ اسی وقت جب امریکہ اور یورپ آمروں کی حمایت کر رہے تھے ان کے ہاں ان کے مخالفین کی تربیت بھی جاری تھی۔ طارق رمضان کا اشارہ سوشل میڈیا کے ذرائع کے بارے میں تربیتی کورسوں کی طرف ہے جن میں بڑی تعداد میں عرب نوجوانوں نے احتجاج کے نئے طریقے سیکھے۔ کتاب میں انہوں نے ایسی ہی سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔