’نماز کے لیے مسافر گاڑی روکنے کی پابندی‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کو نماز کے اوقات میں گاڑی روکنے کا پابند بنائے۔

یہ قرارداد جمعیت علمائے اسلام کی رکن عظمی خان نے پیر کو ایوان میں پیش کی۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کوریا کی نجی ٹرانسپورٹ کمپنی ’ڈائیو‘ کے حکام کو پاکستان میں دورانِ سفر نماز کے اوقات میں گاڑی روکنے کا پابند بنائے۔

’ڈائیو‘ کمپنی کی گاڑیوں کے مخصوص اور محدود سٹاپ ہیں اور ان سے ہٹ کر انہیں کہیں بھی روکا نہیں جاتا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمان نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ گاڑیاں پاکستان بھر میں چلتی ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ کام تو اعلیٰ سطح پر ایک حکم نامے سے بھی ہو سکتا ہے تو پھر اس کے لیے قرارداد لانے کی کیا ضرورت تھی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ اس لیے کہا گیا ہے تاکہ یہ فیصلہ ملک بھر میں چلنے والی تمام گاڑیوں پر نافذ ہو سکے۔

مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ دورِ حکومت میں بھی ان گاڑیوں میں ٹیلی ویژن کے استعال پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا جس پر خیبر خیبر پختونخواہ کی حد تک پابندی کی جاتی تھی لیکن صوبے کی حد سے باہر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا تھا۔

اس بارے میں سیاسی تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت اسمبلی میں موجود مذہبی جماعتیں اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ریاستی معاملات کو مذہبی معاملات سے الگ الگ رکھنا چاہیے کیونکہ اس وقت حکومت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

خادم حسین کے مطابق یہ کام ایگزیکٹو حکم نامے سے بھی ہو سکتا تھا اور اس کے لیے اسمبلی سے قرارداد منظور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن انھیں ایسا محسوں ہوتا ہے کہ کہ یہ سب کچھ ان مذہبی جماعتوں نے اپنے ووٹرز کے لیے ہی کیا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ خیبر پختونخوا میں’ڈائیو‘ کمپنی کے سٹاپ ایسے اوقات میں آتے ہیں جب نماز کا وقت ہوتا ہے اس لیے مسافر دوران سفر نماز ادا کر لیتے ہیں۔

اسی بارے میں