’انٹیلی جنس ادارے تعاون کو یقینی بنائیں‘

Image caption وزیراعظم نواز شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کوئٹہ کا یہ پہلا دورہ تھا

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیاں آئی بی اور آئی ایس آئی بلوچستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے صوبے کے وزیراعلیٰ اور گورنر کی مدد کریں اور مجرموں کو پکڑیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے یہ بات کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے عمائدین سے ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ بیس بازاروں اور بیس گلیوں کا شہر ہے، اسے محفوظ کرنا کیا مشکل ہے۔

’خفیہ اداوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے مابین رابطوں کو بہتر بنائیں۔آئی ایس آئی اور آئی بی کو کہا ہے کہ وہ سنیچر کو کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی قتل وغارت قبول نہیں۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کوئٹہ اور بلوچستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ملک بھر سے بہترین پولیس افسران کو وہاں تعینات کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامی سطح پر بھی جن لوگوں کی ضرورت ہو گی انھیں بلوچستان بھیجا جائے۔

اس سے پہلے وزیراعظم نے اپنی آمد کے بعد گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے علاوہ آئی ایس آئی، پولیس اور فرنٹیئر کور بلوچستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بلوچستان میں ہزارہ ٹاؤن میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم سے شیعہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک وفد ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب دہشت گردی کے اس سلسلے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر پہنچنے ہیں کہ انتظامیہ میں بہتری لائی جائے پولیس میں بھی نیا جذبہ پیدا کیا جائے اور پولیس کو ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔

ان کا کہناتھا کہ یہاں جو ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے اس کا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کا حساب لیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کی سربراہی میں جب سے نئی حکومت آئی ہے اس سے بہت مثبت پیغام گیا ہے کہ حکومت کا مطلب نتائج دکھانا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہو یا پھر باقی بلوچستان اور ملک کے دیگر حصے جہاں ہماری حکومت نہیں وہاں بھی ہم صوبائی حکومتوں کی مدد کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کے دورے سے واپسی پر اجلاس بلائیں گے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو دعوت دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب مل بیٹھیں گے اور مل کر خیبر سے گوادر تک سب مسائل کو حل کریں گے اور یہاں دہشت گردی سمیت تمام مسائل کو حل کریں گے۔

اسی بارے میں