پھر ڈرون حملہ، سترہ ہلاکتیں، پھر پاکستان کا احتجاج

Image caption امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے بتایا جاتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

پاکستان نے اس حملے پر شدید احتجاج کیا ہے اور دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسے حملے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ ’پاکستان نے بار بار ان حملوں کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے کیونکہ ان حملوں کا کوئی فائدہ نہیں، اس سے عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں‘۔ بیان کے مطابق ڈرون حملے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون اور تپاک کی باہمی خواہش اور خطے میں امن و استحکام کے قیام پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔

میران شاہ میں مقامی ذرائع کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں نے شمالی وزیرستان میں ایک گھر اور گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے چار میزائل داغے تاہم مرنے والوں کی شناخت کے بارے میں ابھی صورتِ حال واضح نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب میران شاہ بازار میں ہوا۔

حملےسے پہلے جاسوسی طیاروں کو میران شاہ بازار کے اوپر فضا میں اْڑتے دیکھا گیا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ہوا اور اس میں دو مشتبہ شدت پسند زخمی ہو گئے۔

اے پی کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے بتایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ میاں نواز شریف کے وزیرِاعظم بننے کے بعد یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

وزیرِاعظم نواز شریف ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اسے ملک کی خودزمختاری کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہونے والا پہلا ڈرون حملہ سات جون کو ہوا۔ اس حملے میں شمالی وزیرستان میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد پاکستان نے امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا تھا اور ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

شمالی وزیرستان میں 29 مئی کو ہونے والے ایسے ہی ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر ولی الرحمن ہلاک ہوگئے تھے۔

اُن کے علاوہ مولوی نذیر، بیت اللہ محسود اور قاری حسین سمیت پاکستانی طالبان کے کئی اہم کمانڈرز ڈرون حملوں میں مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں