سندھ کا متنازع بلدیاتی نظام

Image caption سندھ میں بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں 1979 کا بلدیاتی نظام بحال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شہری حکومتیں اور ٹاؤنز ختم کر کے ضلع کونسل، تعلقہ کونسل اور یونین کونسل قائم کی جائیں گی، جبکہ کراچی میں میٹرو پولیٹن کارپویشن اور پانچ ضلع کونسل ہوں گی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخاب کا ٹائم فریم نہیں دے سکتی لیکن حکومت بلدیاتی انتخابات پر یقین رکھتی ہے اور اسے امید ہے کہ ایم کیو ایم بھی ان انتخابات میں شریک ہوگی۔

سندھ میں بلدیاتی نظام دو ہزار ایک سے متنازع رہا ہے اور یہ تنازع تاحال جاری ہے۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے قومی حکومتوں کا تصور پیش کیا اور اس کو بلدیاتی نظام سے جوڑ دیا۔ اس نظام کے تحت دو ہزار ایک کے بلدیاتی انتخابات کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے اس میں حصہ لیا۔

سال دو ہزار پانچ کے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ضلع حیدرآباد کو چار اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا اور حیدرآباد سٹی کو شہری حکومت کا درجہ مل گیا، ان انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی اور حیدرآباد میں شہری حکومتیں بنائی۔

سال دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی، جس پر یہ سیاسی دباؤ تھا کہ کراچی کو پانچ اضلاع میں تقسیم کرے اور حیدرآباد کی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ لیکن پیپلز پارٹی ایسا نہیں کر سکی، اس کے بعد دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام کی مدت پوری ہوگئی، مستقبل میں بلدیاتی نظام کیا ہو؟ اس کا تعین کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں مذاکرات شروع ہوگئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو 2001 کے نظام پر تحفظات تھے، اسی لیے پی پی نے اس نظام کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی اس نظام نے کراچی اور حیدرآباد میں خاص طور پر سیاسی اور انتظامی گرفت مضبوط کی تھی اس لیے اس کی یہ خواہش اور کوشش تھی کہ 2001 کا نظام کو برقرار رکھا جائے۔

2011 تک پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت میں مذاکرات کے کئی دور چلے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ جس کی وجہ سے دونوں اتحادی جماعتوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور بالآخر متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

سندھ کی حکومت نےمتحدہ قومی موومنٹ کی علیحدگی کا فائدہ لے کر نو جولائی سال دو ہزار گیارہ کو سندھ اسمبلی میں بل کے ذریعے 1979 کا بلدیاتی نظام بحال کر دیا جس کے ساتھ کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کی ڈویژنل حیثیت بحال کر دی گئی۔

حکومت کو متحدہ قومی موومنٹ کی ایک بار پھر شدید مخالفت اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کراچی پہنچے اور رات گئے تک گورنر ہاؤس میں مذاکرات کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں 2001 کا بلدیاتی نظام بحال کر دیا گیا، جس سے سندھ میں ایک وقت ہی دو نظام رائج ہوگئے۔

مئی 2012 میں سندھ ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا کہ صوبے میں نوے روز کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے جائیں کیونکہ یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، اس حکم پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

2012 ستمبر میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں آخر اتفاق رائے ہوگیا، جس کے بعد سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دو ہزار بارہ جاری کیا گیا، جس کے تحت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ کو میٹروپولیٹن کارپوریشنز کا درجہ دیا گیا۔

ان شہروں میں میئرز اور ڈپٹی میئرز منتخب کرنے جبکہ باقی ماندہ اٹھارہ اضلاع میں ضلع کونسلوں کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔

اس نظام کے اعلان کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل نے حکومت سے راہیں علیحدہ کر دیں اور اس فیصلے کو سندھ کے خلاف ایک سازش قرار دیا۔ ان جماعتوں نے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کے خلاف راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران سندھ میں ہڑتالیں اور مظاہرے کیے گئے۔

ستمبر 2008 میں سندھ رابطہ کونسل کے رہنما بیرسٹر ضمیر گھمرو نے پیپلز لوکل باڈیز آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ایک ہی صوبے میں دو بلدیاتی نظام آئین سے متصادم ہیں، سپریم کورٹ نے اس نظام کے خلاف حکم امتناہی جاری کر دیا، جس نے حکومت پرموجود متحدہ قومی موومنٹ کے دباؤکو کم کر دیا۔

فروری 2013 میں متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی، جس میں دیگر وجوہات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات اور نظام کو بھی جواز بنایا گیا۔

ستمبر میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے 1979 کا بلدیاتی نظام ایک بار پھر بحال کردیا، جس سے سپریم کورٹ میں پیپلز لوکل باڈیز آرڈیننس کے خلاف دائر درخواست غیر موثر ہوگئی۔

عام انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس فیصلے نے انتخابات میں جانے کے لیے کافی ریلیف فراہم کیا اور وہ مخالف جماعتیں جنہوں نے اس نظام کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے خلاف راہ ہموار کی تھی وہ بھی خاموش ہوگئیں۔

عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریت کے ساتھ سندھ کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، حکومت میں شمولیت کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کو کئی بار دعوت دی گئی لیکن وہ شامل نہیں ہوئی اور بلآخر 1979 کے بلدیاتی نظام کے قانون کی ٹرانزیشن کی مدت پوری ہوئی اور پیر کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اس نظام کو مسترد کر دیا ہے، ایم کیو ایم کے رہنما رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ 1979 کا نظام درحقیقت بلدیاتی ادارہ ہے، جس پر بیورو کریسی کا راج ہوگا جبکہ متحدہ بلدیاتی حکومتوں پر یقین رکھی ہے، جس میں عام متوسط طبقے کا آدمی منتخب ہو کر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں بھی اس نظام کی بھرپور مخالف کی ہے اور آئندھ بھی کرتی رہے گی۔

اسی بارے میں