پشاور: سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ، چھ ہلاک

پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر پشاور میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے ایک حملے میں فرنٹیر کانسٹیبلری کے چھ اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور میں فرنٹیر کانسٹیبلری کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی رات ایف آر پشاور کے علاقے جنا کور میں کشن گڑھ کے مقام پر پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ مسلح شدت پسندوں نے رات کی تاریکی میں شمشتو کے نام سے مشہور سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

سرکاری اہلکار کے مطابق حملے میں چھ اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی جوابی کاروائی کی گئی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کتنے شدت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

مرنے والے اہلکاروں کا تعلق یوسف زئی قبیلے اور ضلع صوابی کے مختلف علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے ایف آر پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں تیزی آ رہی ہے۔

اس سے پہلے پشاور شہر میں دن دہاڑے دو پولیس اہلکاروں کو قتل کیا گیا جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

اس کے علاوہ بڈھ بیر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر کار بم دھماکہ کیا گیا جس میں متعدد افراد مارے گئے۔

گزشتہ سال دسمبر میں ایف آر پشاور کے علاقے حسن خیل سے مسلح شدت پسندوں نے 21 لیوی اہلکاروں کو اغواء کیا تھا اور بعد میں انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پشاور کے مضافاتی اور ایف آر کے علاقوں میں حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے یہاں سے حال ہی میں درجنوں خاندانوں نے پشاور اور دیگر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایف آر پشاور اور اردگرد کے علاقوں میں عسکریت پسند ایک بار پھر سرگرم ہو رہے ہیں اور کچھ مقامات پر شدت پسندوں کو دن کے وقت گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے تاہم حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عسکری تنظیموں کے کمانڈر لوگوں کو پرچیاں بھیج کر ان سے بھتے بھی وصول کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں