’سزائے موت پر عملدرآمد معطل کرنے کا مطالبہ‘

Image caption پاکستان میں آٹھ ہزار کے زیادہ قیدیوں کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے جن میں اکثریت کی اپیل کا حق کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ بحال کرنے کے بجائے اس پر عارضی طور پر عملدرآمد معطل کرنے کا حکم جاری کرے۔

تنظیم کے مطابق پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سنہ 2008 میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عارضی تعطل کا حکم جاری کیا تھا جس کی میعاد اس برس 30 جون کو ختم ہوگئی ہے۔

پاکستان میں 8,000 سے زیادہ قیدیوں کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے جن میں اکثریت کی اپیل کے حق کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ نواز شریف کی حکومت ملک میں امن وامان کی صورت حال دیکھتے ہوئے سزائے پر عملدرآمد بحال کر دے گی۔

تنظیم کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں موت کی سزا پانے والے 8,000 قیدی موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد کےلیے سزائے موت پر عملدرآمد بحال کرنا بہت خوفناک ہوگا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسفک کے ڈپٹی ڈائریکٹر پولی ٹریسکوٹ کا کہنا ہے ’سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے حکومت کے کسی بھی اقدام سے ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوں سکتی ہیں‘۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سزائے موت معطل کرنے پر کوئی واضح اشارے نہیں ملے ہیں۔

ٹریسکوٹ کہتے ہیں ’جب تک پھانسی کی سزا موجود ہے اُس وقت تک بے گناہ افراد کے لیے بھی سزائے موت کا خطرہ کم نہیں ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں مقدمات کی منصفانہ پیروی کی خلاف ورزی سے نہ صرف خطرات اور بھی بڑھ گئے ہیں بلکہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے ہم حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جلد مورٹوریم کی توسیع کرے‘۔

پولی ٹریسکوٹ کے مطابق ’ایک ایسے وقت پر جب پاکستان کا عدالتی نظام ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے ایسے میں حکومت سزائے موت کو مسائل کے آسان حل کے طور پر دیکھ سکتی ہے لیکن سزائے موت پاکستان کے عدالتی نظام کے مسائل کا حل نہیں ہے‘۔

انھوں نے کہا ہے کہ سزائے موت کی بحالی سے جرائم یا شدت پسندی میں کمی نہیں آ سکتی۔

دوسری جانب صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صدر، وزیراعظم کی تجویز پر سزائے موت معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہے لیکن ابھی تک وزیراعظم کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد معطل کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز صدر تک نہیں پہنچی ہے۔

ایمسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سزائے موت دینے سے جرائم کی شرح میں کمی نہیں ہوتی ہے اس لیے پھانسی کی سزا ختم کر دینی چاہیے۔

اقوام متحدہ کی سنہ 2008 میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پھانسی کی سزا جرائم کا سدباب نہیں کر سکی۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم نامہ سنہ 2008 میں جاری کیا گیا تھا جس کی مدت رواں سال 30 جون کو ختم ہو گئی ہے۔

نومبر 2011 میں ملک کی فوجی عدالت نے ایک فوجی کو پھانسی دی تھی لیکن سنہ 2008 سے اب تک پاکستانی جیلوں میں قید کسی بھی شخص کی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں