کراچی میں پانی کی فراہمی کا منافع بخش کاروبار

Image caption بعض کمپنیاں غیر معیاری منرل واٹر تیار کرتی ہیں: کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قلت آب اور آلودگی نے پانی کی فراہمی کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا کہنا ہے کہ شہر میں منرل واٹر سے لے کر ٹینکر تک پانی کی فراہمی کے لیے غیر قانونی کنیکنش لگائے گئے ہیں۔ ادارے نے ان کنیکشنز کے خلاف رواں ہفتے کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

تقریباً دو کروڑ آبادی کے اس شہر میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق پانی کی طلب ایک ہزار ملین گیلن یومیہ ہے جبکہ اس کو سات سو ملین گیلن پانی فراہم کی جاتی ہے۔ ان دعووں کے برعکس شہری اور اورنگی پائلیٹ پراجیکٹس کی ریسرچ رپورٹس کے مطابق پانی کی کمی کے اعداد بڑہا کر پیش کیے جاتے ہیں تاکہ شہر میں پانی کا کاروباری جاری رکھا جاسکے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد افتخار نے بی بی سی کو بتایا کہ پانی کے غیر قانونی کینکشنز کے خلاف کارروائی کے دوران کچھ ایسی فیکٹریاں بھی معلوم کی گئی ہیں جو غیر معیاری منرل واٹر بناتی ہیں۔

’ شہر میں اس قسم کی کئی فیکٹریاں ہیں جہاں نہ حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی پانی الٹر وائلیٹ شعاعوں سے گزارا جاتا ہے۔ اس پانی میں وٹامنز بھی شامل نہیں کیے جاتے۔‘

محمد افتخار کے مطابق بعض مقامات پر تو صرف بورنگ کے پانی سے بوتلیں بھرکر پرکشش ناموں سے منرل واٹر کے طور پر پیش کرکے فروخت کیا جاتا ہے۔

پاکستان کاؤنسل آف ریسرچ آف واٹر ریسورس کا کہنا ہے کہ ملک میں بوتلوں میں منرل واٹر کے نام پر دستیاب پینتیس فیصد پانی غیر محفوظ ہے، یہ پانی کراچی، لاہور، اسلام آباد اور حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔

حکومت پاکستان کے اس ادارے کی جانب سے منرل واٹر کی بوتلوں کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں اوراس کےمعیار کے بارے میں ایک سہ ماہی رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔

مارچ میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق ادارے نے پانی کے کل چھیاسی برانڈس کے نمونے حاصل کیے جن کے لیبارٹری ٹیسٹ میں ثابت ہوا کہ ان میں سے 31 نمونے غیر محفوظ یا آلودہ تھے۔

آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی کے باعث ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ اور ڈائریا کی بیماریاں عام ہوجاتی ہیں، بوتل میں دستیاب پانی صاف ہے یا نہیں جب تک لیبارٹری ٹیسٹ نہ ہوں اس کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا۔

پاکستان کاؤنسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورس کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے پچاس فیصد شہروں میں پانی آلودہ ہے، جس کی وجہ نکاسی اور فراہمی آب کی لائینوں کو ساتھ ہونا، ڈرینیج اور صنعتی فضلے کی دریاؤں یا نالوں میں نکاسی شامل ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ پانی کے معیار کی جانچ پڑتال کی ریگیولر نگرانی نہیں کی جاتی اور اس کے لیے کوئی حکمت عملی بھی نہیں ہے۔

کراچی بھی ان شہروں میں شامل ہے جہاں نکاسی اور پینے کے پانی کی لائین قریب یا ایک ساتھ بچھائی جاتی ہیں، ماضی میں یہ دونوں لائینیں آپس میں مل چکی ہیں جس کے باعث بڑی تعداد میں گیسٹرو کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔

شہر میں اب نجی دفاتر، متوسط اور امیر گھرانوں میں منرل واٹر یا ٹریٹڈ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔

شہری نامی تنظیم کے محقق نعیم صادق کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی دنیا بھر میں نلکے کے ذریعے ہوتی ہے، یہاں پر چونکہ پانی آتا ہی نہیں یا آلودہ آتا ہے اس لیے لوگوں کے پاس محدود چوائس ہے ۔

’ ایک یہ کہ وہ فلٹر لگائیں جو کبھی کبھار قابل اعتماد نہیں ہوتا دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں جو صاف اور صحت مند پانی دستیاب ہے وہ استعمال کریں، لیکن کئی کمپنیاں منرل واٹر کے نام پر عام پانی فروخت کرتی ہیں۔،

نعیم صادق کے مطابق اگر پانی بغیر ملاوٹ کے گھر پہنچ جائے تو بھی آلودگی کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ برسوں سے پانی کی لائینیں تبدیل نہیں کی گئیں اور اس کے علاوہ گھروں میں جہاں پانی جمع کیا جاتا ہے اس کی صفائی نہیں کی جاتی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ منرل واٹر مسئلے کا حل نہیں بلکہ لوگوں کی اس مسئلے کے حل سے راہ فرار ہے، اگر گھر کے نلکے سے صاف اور محفوظ پانی دستیاب ہو تو اس سے لوگوں کا معاشی بوجھ کم ہوگا لیکن سرکاری ادارے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔