شمالی وزیرستان:سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء نیم خودمختار قبائلی علاقے ایف آر پشاور میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دو دن پہلے چھ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ جمعرات کو صدر مقام میرانشاہ سے کوئی تیس کلومیٹر دور تحصیل دتہ خیل میں بویا کے مقام پر خودکُش حملہ آور نے ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی کواس وقت سکیورٹی فورس کے چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا جب وہاں بارہ سے زیادہ اہلکار موجود تھے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں تاہم فوجی ذرائع نے صرف تین زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے سے چیک پوسٹ بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی حکام نے کسی پر الزام لگایا ہے۔

واضح رہے کہ اس واقعہ سے ایک دن قبل میرانشاہ بازار کے قریب ایک ڈرون حملے میں سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعلق حقانی گروپ سے بتایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اکثر اوقات ڈرون حملے کے بعد شدت پسند بدلے کے طور پر پاکستانی فوج کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایف آر پشاور میں کارروائی

پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے ایف آر پشاور میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دو دن پہلے چھ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

دریں اثناء پشاور کے مضافاتی علاقوں میں عسکریت پسندوں اور پولیس کے مابین جھڑپوں میں اہم شدت پسند کمانڈر کے بھائی اور پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے جمعرات کی صبح پشاور سے متصل نیم قبائلی علاقے ایف آر پشاور کے مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناکور اور شمشتو کے علاقوں میں سکیورٹی اہلکار مشتبہ ٹھکانوں اور مکانات کی تلاشی لے رہے ہیں۔

ان کے مطابق جمعرات کی صبح سے علاقے میں موبائل ٹیلی فون سروس معطل کر دیا گیا اور لوگ گھروں کے اندر محصور ہو گئے۔

ایف سی ذرائع نے فرنٹیئر ریجن کے علاقوں جناکور اور شمشتو میں محدود پیمانے پر آپریشن کی تصدیق کر دی ہے تاہم مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

اسی بارے میں