سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا: وفاقی حکومت

Image caption اس وقت آٹھ ہزار کے قریب سزائے موت کے قیدی پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں

پاکستان میں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد بحال کر دیں گے تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صدر کے پاس اب بھی اختیار ہے کہ وہ قیدیوں کو سُنائی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد رکوانے کے علاوہ سزا کو عمر قید میں تبدیل اور اس میں تخفیف کر سکتے ہیں۔

حکومتی اعلان کے بعد اُن قیدیوں کی سزائے موت کے احکامات پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے جن کی تمام تر اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اس سال ستمبر تک پاکستان کے صدر کے عہدے پر فائض رہیں گے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد لیکر پانچ جولائی دو ہزار تیرہ تک صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔ اس ضمن میں وزارت داخلہ ہر چھ ماہ کے بعد صدر مملکت کو تجاویز بھیجتی تھی کہ سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا جائے جس کے بعد صدر کی جانب سے ہر تین ماہ کے بعد ایک آرڈیننس جاری کیا جاتا تھا جس پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا جاتا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد روکنے سے انکار کر دیا گیا ہے جس کے بعد صدر سزائے موت پر عمل درآمد روکنے سے متعلق آرڈیننس جاری نہیں کرسکیں گے۔

اس وقت آٹھ ہزار کے قریب سزائے موت کے قیدی پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں سے سب سے زیادہ تعداد، آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہیں جن کی تعداد چھ ہزار کے قریب ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد جاری رکھنے کے اعلان کے بعد جیل حکام نے اُن قیدیوں کے بلیک وارنٹ جاری کرنے کے لیے متعقلہ عدالتوں کو خط لکھنا شروع کردیے ہیں جن کی تمام تر اپیلیں خارج ہوچکی ہیں اور ان قیدیوں کی تعداد بھی سینکٹروں میں ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ساڑھے چار سو کے قریب قیدیوں کی رحم کی اپیلیں صدر کے پاس پڑی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایوان صدر نے یہ اپیلیں وزارت داخلہ کو بجھوا دی ہیں جن کا از سر نو جائزہ لیکر پانچ یا چھ اپیلیں صدر مملکت کو بھجوائی جائیں گی۔

اُنہوں نے کہا کہ ان اپیلوں کے بارے میں مجرموں کا مکمل ریکارڈ بھی منگوایا جائے گا جس میں اُن کی عمر اور صحت سے متعلق بھی غور کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ زیادہ عمر والے اور خراب صحت والے قیدیوں کی اپیلوں پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا اور ایسی خواتین قیدیوں کی رحم کی اپیلوں پر غور کیا جائے گا جو کہ خاندان کی واحد کفیل ہیں۔

عمر حمید خان کا کہنا تھا کہ اگر ان اپیلوں میں سے وزارت داخلہ کسی قیدی کی اپیل مسترد کرنے کے بارے میں صدر مملکت کو لکھ بھی دے پھر بھی حتمی فیصلہ صدر مملکت کو ہی کرنا ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت اُنہیں یہ مکمل اختیار ہے کہ وہ کسی کی سزا میں تخفیف کریں، معافی دیں یا سزا پر عمل درآمد روک دیں۔ حکومت بھی اس ضمن میں کچھ نہیں کرسکتی جب تک آئین میں کوئی ترمیم نہ لائی جائے۔

مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی سابق حکومت کی طرح سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد روک دے۔

اسی بارے میں