پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس

Image caption دوست محمد خان کا تعلق خیبر پختون خوا کے جنوبی ضلع بنوں سے ہے

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کچھ عرصہ سے عدالت میں زیرِ سماعت لاپتہ افراد کی درخواستوں کے حوالے سے بالکل وہی موقف اپنایا ہوا ہے جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ہے۔

ان کیسوں میں سنجیدہ دلچسپی لینے کی وجہ سے کئی افراد خفیہ اداروں کی حراست سے رہا بھی ہو چکے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ان کیسز میں عدالتی احکامات صرف جاری کرنے کی حد تک ہیں جبکہ عملی طور پر پیش رفت نہیں ہو رہی۔

جمعرات کو عدالتِ عالیہ میں لاپتہ افراد کی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس دوست محمد خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے مقتدر خفیہ اداروں کو متنبہ کیا تھا کہ اب اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جائی گی کہ کوئی مزید عدالتی احکامات کا مذاق اڑائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کو غائب ہونے والے افراد سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئی تو اس کے بعد سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے خلاف اغواء کے مقدمات دائر کر کے ان کے خلاف کارروائی کے لیے ان کے محکموں سے رجوع کیا جائے گا۔ اس سے پہلے بھی فاضل چیف جسٹس ان درخواستوں میں متعدد مرتبہ سخت احکامات جاری کر چکے ہیں۔

بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ سے لاپتہ افراد کے حوالے سے دوست محمد خان کا موقف بالکل وہی رہا ہے جس کا اظہار افتخار محمد چوہدری بھی اکثر اوقات سپریم کورٹ میں کرتے آئے ہیں۔ یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ افتخار چوہدری کے مستعدی کو دیکھ کر ہی دوست محمد خان نے بھی اسی لائن کو اپنایا ہوا ہے اور ان کسیوں میں حکم پر حکم جاری کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ دوست محمد خان ایک کہنہ مشق جج کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق خیبر پختون خوا کے جنوبی ضلع بنوں سے ہے۔ انہوں نے گریجویشن تک تعلیم بنوں سے جبکہ وکالت کی ڈگری ستر کی دہائی میں سندھ لاء کالج کراچی سے حاصل کی۔

ساٹھ سالہ دوست محمد خان نے 1976 میں ایک وکیل کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ ڈسٹرکٹ بار بنوں اور پشاور ہائی کورٹ بار ڈیرہ اسمعیل خان برانچ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

دوست محمد خان پہلی مرتبہ دو ہزار دو میں پشاور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج کے عہدے پر فائض ہوئے تاہم اس کے اگلے سال انہیں ایک مستقل جج کی حیثیت سے تعینات کردیا گیا ۔ وہ بینکنگ کورٹ کے جج بھی رہے ہیں۔

دوست محمد خان دو ہزار گیارہ میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تعینات کیے گئے۔ وہ اس وقت ہائی کورٹ کے سینئیر ترین جج ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے ان کے تمام کوائف مکمل ہیں۔ یہ امکان بھی موجود ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ان کی تعیناتی سپریم کورٹ کی جج کی حیثت سے ہو جائے جبکہ ایسی صورت میں ان کی سروس میں پانچ سال کی توسیع ہو سکتی ہے۔

سنہ دو ہزار سات میں جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو دوست محمد خان نے بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا اور ملک کے دیگر ججوں کی طرح وہ بھی کئی ماہ تک معزول رہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی درخواستوں کی سماعت کئی سالوں سے جاری ہے تاہم پہلے ججوں کی جانب سے ان کسیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ جب سے دوست محمد خان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے ہیں، اس کے بعد سے ان کیسوں کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خود چیف جسٹس کئی بار سماعت کے دوران کہہ چکے ہیں کہ ان مقدمات میں کارروائی کے باعث اب تک ایک ہزار کے قریب افراد خفیہ اداروں کی تحویل سے رہا اور اتنی ہی تعداد میں حراستی مراکز منتقل کیے جا چکے ہیں۔

تاہم بعض لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں مقتدر ادارے ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرتے جس سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ یہ احکامات صرف جاری کرنے کی حد تک ہی ہے یعنی صرف میڈیا میں نظر آنے کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

دوست محمد خان عام لوگوں کو سستا اور انصاف بروقت پہنچانے میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں انسانی حقوق ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کیا ہوا ہے جہاں ایک عام درخواست جمع کر کے سائل کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے جبکہ انہیں وکیل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ عام لوگوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اکثر اوقات سوموٹو ایکشن لیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے کئی ایسے کیسز ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں جس میں عام عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں