گیارہ مزید پاکستانی ماہی گیر بھارتی حراست میں

Image caption پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اکثر ان ماہی گیروں کو گرفتار کرتی ہیں اور ان پر سمندری حدوود کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جاتا ہے

پاکستان میں ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مزید گیارہ ماہی گیروں کو بھارتی بحریہ نے بحیرہ عرب سے گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار ماہی گیروں کی والدہ اور دیگر رشتے داروں نے کراچی پریس کلب پر علامتی بھوک ہڑتال کر کے حکام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ غلام رسول، محمد تھیمور، علی تھیمور، بارہ سالہ سلیمان، رفیق ملاح، ریاض جت، سکندر ، خیرو تھیمور، معشوق تھیمور، سومار مندھرو، اور الھ بچایو کو دو ہفتے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

احتجاج کرنے والوں میں بارہ سالہ سلیمان کی والدہ سون بائی بھی شامل تھیں، جن کے تین بیٹوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سون بائی نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے اپیل کی کہ ان کے بچوں کو رہائی دلائی جائے، وہ غریب ہیں، ان کا اور کوئی سہارا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ بچے ہی واحد کفیل ہیں، اس عمر میں کوئی کام دہندا نہیں ہوسکتا، اگر زمین ہوتی تو کاشت کرتی یا اور کوئی پراپرٹی سے گذر سفر کرتے، میرے پاس سوائے اولاد کی دولت کے اور کچھ نہیں ہے۔‘

ٹھٹہ کی تحصیل شاہبندر کے گاؤں چھچ جہان خان کے رہائشیوں کے ساتھ پہلی بار یہ واقعہ پیش نہیں آیا۔ کبھی سمندری طوفان ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتا ہے تو کبھی پڑوسی ملک کی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

علی ملاح کا کہنا ہے کہ ان کے چھالیس لوگ پہلے ہی بھارتی جیلوں میں قید ہیں اور انہیں بھی سات ماہ پہلے اسی طرح گرفتار کیا گیا تھا۔ بقول علی کے سمندر میں کوئی سرحد تو نہیں جس سے پتہ چلے کہ کس ملک کی حدود کہاں تک ہیں کہ بھارتی فورس آکر گرفتار کرلیتی۔

’بھاگ کر کہاں جائیں گے، کھلے سمندر میں کشتی سے چھلانگ لگائیں گے تو ڈوب کر مرجائیں گے، اسی لیے ماہی گیر کوئی مزاحمت نہیں کرتے۔‘

پاکستان میں ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشرفوک کا کہنا ہے کہ اس وقت بھارتی جیلوں میں تقریباً 170 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں جبکہ پاکستان کی جیلوں میں بھارتی ماہی گیروں کی تعداد ساڑے چار سو کے قریب ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان جذبہ خیر سگالی کے طور پر دو بار بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرچکا ہے لیکن بھارت کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی جارہی لیکن انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اس بارے میں پیش رفت کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سال مئی کے مہینے میں پاکستان کے نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 51 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی اور خوشگوار ماحول کا فائدہ ہمیشہ دونوں ملکوں کے ماہی گیروں کو ہوتا ہے جبکہ کشیدہ حالات میں بھی یہی ماہی گیر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اکثر ان ماہی گیروں کو گرفتار کرتی ہیں اور ان پر سمندری حدوود کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں