’جے یو آئی اور اے این پی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جمعیت علماء اسلام (ف) اور عوامی نینشل پارٹی نے ضمنی انتخابات کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں جماعتیں ایک حلقے کے بغیر تمام حلقوں پر متفق نظر آتی ہیں۔

ادھر جمعیت علماء اسلام نے گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کی سطح پر دھاندلی کا الزام ایک مرتبہ پھر عائد کیا ہے اور اس سلسلے میں وائٹ پیپر جاری کر دیے ہیں۔

دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اور مشترکہ امیدواروں کی حتمی فہرست جلد جاری کر دی جائے گی۔

جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے باقی تمام حلقوں پر دونوں جماعتوں میں اتفاق پایا جاتا ہے صرف صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے‘ ستائیس پر مذاکرات ہو رہے ہیں اور جلد ہی اس حلقے پر بھی فیصلہ ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس حلقے پر اے این پی ہلاک ہونے والے رکن کے بھائی کی حمایت کرنا چاہتی ہے جبکہ جمعیت کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے۔

عبدالجلیل جان سے جب پوچھا کہ دونوں جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کے مخالف رہی ہیں اور نظریاتی اعتبار سے بھی دونوں جماعتوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے تو یہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیسے ہوئی اور کیا دونوں جماعتوں کے ووٹرز دوسری جماعتوں کو ووٹ دیں گے تو انھوں نے کہا کہ جماعت کا قائد یہ فیصلہ کرتا ہے اور ووٹرز اسے تسلیم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی اتحاد نہیں اور یا کوئی نظریات کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب سیاست میں سب کچھ ہو سکتا ہے اور دونوں جماعتوں کی انتخابی سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی اسی سلسلے کی ہی کڑی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں تحریک طالبان کے حملوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہی ہے اور ان دنوں جمعیت علماء اسلام کے ذریعے کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے مذاکرات کی کوششیں بھی کی گئی تھیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

باچا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ’دونوں جماعتوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کوئی غیر فطری نہیں ہے بلکہ دونوں جماعتیں فکری اعتبار سے بہت قریب ہیں اور ماضی میں بھی دونوں جماعتیں اس طرح کے اتحاد کر چکی ہیں‘۔

جمعیت علماء اسلام نے دوسری جانب گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو دہرایا ہے اور اس بارے میں وائٹ پیپر جاری کر دیے ہیں جس میں جماعت کے ترجمان کے مطابق وہ تمام شواہد پیش کر دیے گئے ہیں جس سے ان کے موقف کو تقویت ملتی ہے ۔

یہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کی یہ مہم دراصل ضمنی انتخابات کے لیے ہی ہے تاکہ ان کی جماعت ان انتخابات میں اپنی نشستیں دوبارہ جیت سکے۔ اس مرتبہ این اے پچیس ڈیرہ کم ٹانک سے مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسد پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخابات بائیس اگست میں منعقد ہونے ہیں۔

اسی بارے میں