کالعدم تحریک طالبان کے نئے ترجمان کی تقرری

Image caption اطلاعات کے مطابق نیے ترجمان شیخ مقبول افغان طالبان کے قریب بھی رہے ہیں

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ شیخ مقبول نامی ایک کمانڈر کو نیا ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے۔

یہ اعلان منگل کو شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک پمفلٹ میں کیا گیا۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ احسان اللہ احسان نے اپنے بیانات سے افغان اور پاکستانی طالبان میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔

پمفلٹ کے مطابق شیخ مقبول کو احسان اللہ احسان کی جگہ طالبان کا نیا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق شیخ مقبول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے ہے اور وہ افغان طالبان کے بھی قریب رہے ہیں۔

طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان کے بعض بیانات کی وجہ سے افغان طالبان نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور اس کی شکایت حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں قائم مرکزی شوریٰ کو کی گئی جس پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور ان کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔

ذرائع نے کہا کہ تقریباً دو ہفتے قبل مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے سربراہ عمر خالد کے ترجمان عمر خراسانی کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک بیان کہا گیا تھا کہ افغان صوبہ کنڑ سے درجنوں افغان طالبان نے پاکستان کے قبائلی مہمند ایجنسی میں داخل ہوکر کالعدم لشکر طیبہ اور انصار الااسلام کی جنگجوؤں کی مدد کرنے کے لیے ان کے مراکز پر حملے کیے۔

عمر خراسانی نے یہ بھی کہا تھا اس حملے کی اطلاع افغان طالبان قیادت کو دی گئی اور ان کو کہا گیا کہ وہ اپنے جنگجوؤں کو ان کے مراکز پر حملوں سے روکیں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔

ذرائع کے مطابق بعد میں مرکزی ترجمان پر الزام لگایا گیا کہ افغان طالبان کے حملے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کو بیانات عمر خراسانی کی طرف سے نہیں بلکہ خود احسان اللہ احسان کی طرف سے جاری کیے گئے تھے۔

تاہم اس سلسلے میں احسان اللہ احسان کا موقف جاننے کے لیے ان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان سے منسلک کمانڈر عمر خالد گروپ کے مابین بہت پہلے سے اختلافات چلے آ رہے ہیں اور ان دونوں تنظیموں کے مابین چند سال پہلے جھڑپیں بھی ہو چکی تھیں جس میں اہم کمانڈروں سمیت کئی جنگجو مارے گئے تھے۔

کالعدم لشکر طیبہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے جنگجو سرحد پار افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف کارروائیوں کرتے ہیں اور یہ پاکستان گروپ کا حامی بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں گروپوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے افغان طالبان کئی مرتبہ کوششیں بھی کر چکی ہے لیکن ان کو کامیابی نہیں مل سکی۔

خیال رہے کہ احسان اللہ احسان کا تعلق بھی مہمند ایجنسی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ اس سے پہلے کمانڈر عمر خالد کے معاون اور مہمند طالبان کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں