صدر زرداری کا نجی محافظ ’خودکش‘حملے میں ہلاک

Image caption بلال شیخ صدر زرداری کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں(فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے گرومندر میں ایک بم دھماکے میں صدر آصف علی زرداری کے نجی محافظ بلال شیخ سمیت تین افراد ہلاک جبکہ دس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

بلال شیخ بلاول ہاؤس کی سکیورٹی کے معاملات دیکھتے تھے، جب آصف علی زرداری انتخاب کے بعد ایوان صدر منتقل ہوگئے تو انہیں صدر زرداری کا نجی محافظ تعینات کیا گیا۔

ایس ایس پی عثمان باجوہ کا کہنا ہے کہ بلال شیخ پولیس سکیورٹی میں اپنی رہائش گاہ کی جانب جا رہے تھے کہ ان کی کار کو نشانہ بنایاگیا۔ میڈیکل لیگل افسر سول ہپستال کا کہنا ہے کہ بلال شیخ کی لاش سول ہپستال پہنچائی گئی ہے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے سپاہی ناصر کا کہنا ہے کہ وہ پھل لینے کے لیےگرومندر پر رکے تھے، بلال شیخ خود نہیں اترے تھے ان کی گاڑی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق زخمی سپاہی کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا۔سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس پی راجہ عمر نے بھی جائے وقوع کے معائنے کے بعد شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔

بلال شیخ زمانہ طالب علمی سے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے، وہ پی ایس ایف میں سرگرم رہے۔ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی کے وقت ان کی سکیورٹی کے لیے جو جانثاراں بینظیر کمیٹی بنائی گئی تھی بلال شیخ بھی اس میں شامل تھے۔

بلال شیخ کو کراچی میں جسٹس ریٹائرڈ نظام قتل کیس میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ نامزد کیا گیا تھا۔ جسٹس نظام اور ان کے بیٹے کو دس جون 1996 کو کراچی میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس مقدمے سے صدر آصف زرداری اور بلال شیخ کو باعزت بری کردیا تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس نظام سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ناصر اسلم زاہد کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

اس سے پہلے سال دو ہزار آٹھ میں کراچی میں ہی نامعلوم مسلح افراد نے پیپلز پارٹی کے مرکز بلاول ہاؤس کے چیف سکیورٹی آفیسر خالد علی شہنشاہ کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا تھا۔

اسی بارے میں