جرگے قانون اور انسانیت کے خلاف:چیف جسٹس

جرگہ فائل فوٹو
Image caption اس دور میں بھی جہاں سائنس بہت ترقی کرچکی ہے اس طرح کے جرگے ہو رہے ہیں: سپریم کورٹ

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ جرگے قانون اور انسانیت کے خلاف ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان جرگوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے جرگوں کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے بہت سے لوگ نہ صرف اپنی زندگیاں گنوا بیھٹے بلکہ لوگوں کو ان جرگوں کے فیصلوں کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو جنوبی پنجاب کے علاقے راجن پور میں ونی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ قتل کے واقعہ کے بارے میں ہونے والے جرگے میں ملوث دس میں سے نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس ماہ کی چھ تاریخ کو راجن پور کے علاقے بنگلہ گبول میں ایک جرگہ ہوا تھا جس میں نور حیسن نامی شخص کور مختار نامی شخص کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس علاقے میں ’ڈوبا‘ کی ایک رسم ہے جس کے مطابق جس پر کوئی الزام ہو تو اُسے ایک منٹ سے ڈیڑھ منٹ تک پانی کے اندر سانس روک کر بیٹھنا پڑتا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران مقامی مسجد کا مولوی یا کوئی دوسرا شخص قرآن کی تلاوت کرتا رہتا ہے اور دو افراد اُس تالاب کے اردگرد پہرہ دیتے ہیں کہ کہیں ملزم منہ باہر نکال کر سانس نہ لے رہا ہو۔

پولیس کے مطابق اگر اس عرصے کے دوران ملزم پانی سے باہر آجائے تو اُسے قصور وار گردانا جاتا ہے جبکہ اگر وہ یہ عرصہ پانی میں گُزار لے تو وہ بےقصور تصور ہوتا ہے۔

مقامی تھانے کی پولیس کے انچارج رانا ادریس کا کہنا تھا کہ نور حسن مقررہ مدت سے پہلے ہی پانی سے باہر نکل آیا جس پر جرگے نے اُسے قصور وار ٹھراتے ہوئے مقتول کے خاندان کو دس لاکھ روپے اور تین بہنوں کا رشتہ دینے کا فیصلہ سُنایا۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجازچوہدری کا کہنا تھا کہ اس دور میں بھی جہاں سائنس بہت ترقی کرچکی ہے اس طرح کے جرگے ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ منتخب نمائندوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو روکیں۔

اس از خود نوٹس کی سماعت اٹھارہ جولائی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں