’دہشتگردی کا خاتمہ‘، پالیسی مسودے پر کام شروع

فائل فوٹو
Image caption دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی بنانے پر حکومت کی جانب سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے

حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی پالیسی پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے قبل اس موضوع پر ایک پالیسی مسودہ تیار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے جو کل جماعتی کانفرنس میں سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس سے پہلے حکومت سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی بنیاد پر پالیسی تیار کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تاہم وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے اصرار پر وزیراعظم نواز شریف نے پالیسی کا مسودہ پہلے تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

داخلہ اور خارجی امور کے لیے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بارہ جولائی کو منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس اب اس ماہ کے آخر میں منعقد کی جائے گی۔

’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کانفرنس سے قبل مزید ہوم ورک کیا جائے تاکہ کل جماعتی کانفرنس کے سامنے یہ تجاویز بحث کے لیے پیش کی جا سکیں۔‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ مسلح گروہوں کے ساتھ کس سطح پر اور کس طرح بات کی جائے اس بات کا فیصلہ کل جماعتی کانفرنس میں کیا جائے گا۔

نواز کابینہ کے ایک اور رکن کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اسی پالیسی مسودے کی تیاری کے سلسلے میں مختلف اداروں، شخصیات اور طبقہ ہائے فکر کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے تجاویز تیار کر رہے ہیں۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق بعض سرکاری افسران نے موجودہ حکومت کو اس کے ابتدائی دنوں میں ہی ’قومی سلامتی پالیسی‘ کے نام پر ایک دستاویز تیار کر کے دی تھی جسے چوہدری نثار علی خان نے، پرانی اور غیر متعلقہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ اس پالیسی کے روح رواں کی حیثیت سے وزیرِ داخلہ بعض نئی اور ٹھوس تجاویز اس پالیسی میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے وزیراعظم اپنے وزیر داخلہ کے ہمراہ مختلف اداروں اور افراد سے تجاویز اکٹھی کر رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک مشاورتی اجلاس میں شامل سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے حاضرین کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملکی دھارے میں شامل تمام قریقوں سے مشاورت کے بعد ایک پالیسی بنائی جائے جس کو پھر کل جماعتی کانفرنس کے سامنے بحث کے لیے پیش کیا جا سکے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ’وزیراعظم دانشوروں اور سیاستدانوں سے مشاورت کر رہے ہیں جو اچھی بات ہے لیکن اصل مشورہ تو انہیں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ کرنا ہے جنہوں نے اس پالیسی پر عمل ممکن بنانا ہے اور وزیراعظم کا آئی ایس آئی کے صدر دفتر کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ اس پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ان کے مطابق ’چوہدری نثار نے اجلاس کو بتایا کہ بری فوج کے سربراہ نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ تمام قومی ایشوز پر فوج اور اس کے ادارے حکومت کی مکمل حمایت کریں گے اور حکومت کی پالیسی ہی فوج کی پالیسی ہو گی۔‘

اسی بارے میں