شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں:ملالہ

دنیا بھر کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے حوالے سے مہم چلانے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے اقوامِ متحدہ میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں اور وہ ہر اس فرد کی آواز ہیں جو دنیا میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ کو گزشتہ برس طالبان نے لڑکیوں کے لیے تعلیم کے حق میں مہم چلانے پر نشانہ بنایا تھا اور اب وہ علاج کے لیے برطانیہ میں مقیم ہیں اور وہیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے بارہ جولائی کو جو کہ ملالہ کا یومِ پیدائش ہے، ’ورلڈ ملالہ ڈے‘ یا عالمی یومِ ملالہ قرار دیا ہے اور اس دن کا مقصد دنیا میں ہر بچے کے لیے تعلیم کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

ملالہ جمعہ کو اپنی سولہویں سالگرہ کے موقع پر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں دنیا کے اسّی ملکوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی منفرد جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئیں۔

اس موقع پر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ملالہ ڈے صرف میرا دن نہیں۔ آج کا دن ہر اس لڑکی اور لڑکے کا دن ہے جس نے اپنی آواز اپنے حقوق کے لیے اٹھائی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان کی آواز ہوں جن کی آواز کوئی نہیں سن رہا۔ وہ جو پرامن ماحول میں رہنے اور تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

ملالہ کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے ان لاکھوں افراد میں سے ایک ہیں جو دہشتگردوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوئے اور ’طالبان کا خیال تھا کہ ان کی گولی ہمیں خاموش کر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس گولی سے کمزوری اور ناامیدی مر گئی جبکہ طاقت اور حوصلے کو نئی زندگی ملی۔ ’میں وہی ملالہ ہوں۔ میرے عزائم، امید اور حوصلہ وہی ہے۔‘

ملالہ نے کہا کہ ’ہمیں قلم اور کتاب کی اہمیت کا اندازہ بندوق دیکھ کر ہوتا ہے۔ شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ وہ خواتین سے ڈرتے ہیں۔ وہ تبدیلی اور اس برابری سے خوفزدہ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قلم اور کتاب دنیا کے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں۔ ایک طالبعلم، ایک استاد، ایک قلم اور ایک کتاب دنیا تبدیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ میں ہر بچے کی تعلیم کے حق کی بات کرنے آئی ہوں اور طالبان اور دیگر شدت پسندوں کے بچوں کے لیے بھی تعلیم چاہتی ہوں۔

ملالہ نے کہا کہ تعلیم ہی سب مسائل کا واحد حل ہے اور تعلیم ہی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔

ملالہ نے اقوامِ متحدہ سے خطاب کرنے کا موقع ملنے کو اپنے لیے باعث اعزاز قرار دیا اور تقریر میں ان لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے ان کی صتحیابی کے لیے دعا کی۔

خیال رہے کہ ملالہ ڈے کے موقع پر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیو دی چلڈرن نے دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم کے حوالے رپورٹ بھی شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دو ہزار گیارہ میں پاکستان میں شدت پسندوں کے حملے میں 152 سکول تباہ ہوئے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سکول جانے کے عمر کے تقریباً 54 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں پرائمری تعلیم پر خرچ ہونے والے رقم دفاعی اخراجات کے مقابلے میں سات گنا کم ہے

اسی بارے میں