انسدادِ دہشتگردی کے لیے نئی پانچ نکاتی پالیسی

Image caption شدت پسندی کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

پاکستان میں دہشتگردی پر قابو پانے کے سابق حکومت کی تھری ڈی پالیسی کو تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی یعنی ’نیکٹا‘ نے نئے قومی لائحہ عمل یا پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

مسلم لیگ نون کی حکومت پر اقتدار میں آنے کے بعد سے انگلیاں اٹھائی جانے لگی تھیں کہ وہ نیکٹا جیسے ریاستی اداروں کو فعال کرنے کی کوشش تو کر رہی ہے لیکن دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی منصوبہ یا نقشۂ راہ نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فوج کی مشاورت سے تھری ڈی پالیسی کا اعلان کیا تھا جو ڈائیلاگ (مذاکرات)، ڈیٹرنس (طاقت کے استعمال کا خوف ) اور ڈیویلپمنٹ (ترقی) پر مشتمل تھی لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی کی کامیابی محدود رہی اور اس کی مدد سے شدت پسندی کے مسئلہ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

بی بی سی اردو کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق ’نیکٹا‘ نئی پالیسی کی تیاری میں کافی عرصے سے مصروف ہے اور اس نے صحافیوں، دانشوروں، پولیس اہلکاروں، سابق شدت پسندوں اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے بات چیت کے بعد یہ پالیسی تیار کی ہے۔

دستاویز کے مطابق نئی قومی انسدادِ دہشتگردی پالیسی کا جو پہلا بنیادی مسودہ تیار کیاگیا ہے اس میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا (ڈس مینٹل)، انہیں ایک مخصوص جگہ محدود کرنا (کنٹین)، شدت پسندی کو روکنا (پریوینٹ)، عوام کو آگاہ کرنا (ایجوکیٹ) اور شدت پسندوں کو معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے (ری انٹیگریٹ) جیسے مراحل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس پانچ نکاتی پالیسی میں ضلع کی سطح پر خفیہ معلومات کو اکٹھا کرنے، پولیس کو مضبوط کرنے اور ملزموں کو جلد اور فوری سزایں دلوانے، ثبوت فراہم کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لیے متعلقہ شعبوں پر مربوط انداز میں توجہ دینے کی بات کی گئی ہے۔

مجوزہ پالیسی میں معاشرے کے مفید شہری کے طور پر بحالی کے لیے سابق جہادی رہنماؤں اور جیلوں میں قید شدت پسندوں سے مشورہ کر کے حکمت عملی تیار کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

بعض مبصرین اسے ماضی کی پالیسی سے زیادہ جامع قرار دے رہے ہیں جو نئی حکومت کو روڈ میپ تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جس انداز سے شدت پسندی نے پاکستانی معاشرے میں وسیع پیمانے پر جگہ بنائی ہے اس کے جڑ سے خاتمے کے لیے کافی جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے نیکٹا کو سنہ دو ہزار نو میں قائم کیا تھا لیکن بہت لوگوں کو شکایت ہے کہ اس سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کے لیے یہ بنایا گیا تھا۔ اس پالیسی کے قیام سے محسوس ہوتا ہے کہ اس ادارے نے اس دوران کم از کم سوچ بچار کا عمل جاری رکھا ہے۔

اسی بارے میں