شورش زدہ علاقوں میں مسلح افراد کے حملے، تعلیم میں رکاوٹ

Image caption رپورٹ میں گزشتہ ماہ پاکستان کے شہر کوئٹہ خواتین یونیورسٹی کی بس پر ہونے والے حملے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس حملے میں تقریبا پندرہ طالبات ہلاک ہو گئی تھیں۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے شورش زدہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ کروڑ بچے حصولِ تعلیم سے محروم ہیں۔

امدادی تنظیم کے مطابق سکولوں سمیت دیگر تعلیمی اداروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سیو دیی چلڈرن نے پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی سالگرہ کے موقع پر ’تعلیم پر حملے‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا ہے اور گزشتہ سال سے بچوں پر حملے سمیت مسلح گروہوں میں بچوں کو بھرتی کرنے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے طالبہ ملالہ یوسف زئی گزشتہ برس سکول سے واپس آتے ہوئے طالبان کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں اور وہ اب صحتیابی کے بعد برطانیہ میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شورش زدہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے سیو دی چلڈرن کی رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ملالہ یوسف زئی جمعہ کو اپنی سولہویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرنے والی ہیں۔

سیو دی چلڈرن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو ہزار گیارہ میں پاکستان میں شدت پسندوں کے حملے میں 152 سکول تباہ ہوئے جن میں سے 138 سکول قبائلی علاقوں اور خیبر پختوانخوا میں تھے جبکہ پاکستان کے حفیہ اداروں نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں قبائلی علاقوں اور خیبر پختوانخوا میں 995 سکولوں اور 35 کالجوں کو تباہ کیا گیا۔

رپورٹ کے متن کے مطابق ’مسلح گروہ پاکستان میں بچوں پر تیزاب پھینکتے ہیں اور یہ متاثرہ بچے کی پوری زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ 2012 میں طالبان نے پاراچنار میں دو لڑکیوں پر تیزاب پھینکا تھا۔‘

سیو دی چلڈرن نے اپنی تازہ رپورٹ میں شام میں تعلیم کے صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2012 میں تین ہزار چھ سو سکولوں کو نقصان پہنچایا گیا اور تباہ ہونے والے 70 فیصد سکول شام میں ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں سکولوں پر گولے پھینکے گئے، اساتذہ کو نشانہ بنایا گیا اور مسلح گروہوں نے لڑائی میں معاونت کے لیے بچوں کو بھرتی کیا ہے۔

امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ رواں سال جنوری تک شام میں جاری کشیدگی کے دوران تقریبا 4000 سکولوں تباہ ہوئے ہیں جبکہ جنوری سے اپریل تک ایسے سکولوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جہاں اب تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں ہیں۔

تنظیم نے جنوبی ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم تک محدود رسائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیسکو کی تحقیق کے مطابق شورش زدہ علاقوں کے تقریباً چار کروڑ پچاسی لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔

رپورٹ کے متن کے مطابق ’کشیدگی کے اثرات نے سکول جانے والی عمر کے تقریباً ڈھائی کروڑ بچوں کی تعلیم کے حصول کو خطرے میں ڈال دیا ہے‘۔

سیو دی چلڈرن کی سربراہ جیسمین وئیٹبریڈ نے رپورٹ کے اجراء کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ’کمرہِ جماعت محفوظ جگہ ہونی چاہیے نہ کہ یہ میدان جنگ جہاں بچے خوف زدہ ہوں۔ اس طرح کے واقعات کا نشانہ بنے والے بچے ساری زندگی اس نقصان کا خمیازہ بھگتے ہیں۔‘ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ زیادہ امدادی رقوم سکولوں کی تعمیر پر خرچ کی جائیں۔

رپورٹ میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تعلیم کو محفوظ بنانے کے لیے مالی معاونت کریں اور تعلیمی اداروں پر مجرمانے حملے سمیت سکولوں کی عمارتوں کو مسلح گروہوں کے زیر استمعال آنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت سکول اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے سکولوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے۔

اسی بارے میں