کراچی بدامنی کیس میں ریجنرز کی رپورٹ مسترد

Image caption عدالت نے ڈی جی رینجرز کی جانب سے پیش کی جانے والی کارکردگی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا

کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اسے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمانی، جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے کراچی میں بدامنی سے متعلق از خود نوٹس کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے بارے میں پیر کو سماعت کی۔

عدالت نے ڈی جی رینجرز کی جانب سے پیش کی جانے والی کارکردگی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس سیاسی ہوگئی ہے، اس کو غیر سیاسی بنایا جائے، تو اس میں نئی کیا بات ہے؟

انھوں نے معلوم کیا کہ کیا رینجرز کی رپورٹ کی کاپی پولیس کو دی گئی ہے، جس پر پولیس حکام نے انھیں بتایا کہ عدالت میں ان کو یہ کاپی فراہم کی گئی ہے، جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ رینجرز کو پولیس پر اعتبار نہیں ہے، اس رپورٹ میں ایسا کیا ہے جس کو خفیہ رکھا جا رہا ہے؟۔

جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری دھڑے ہیں، یہ بھی کون سی نئی بات ہے، یہ بات تو وہ سنہ 2011 سے کہتے آ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ رینجرز نے کیا کارروائی کی اور ان دھڑوں کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟

جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ ڈی جی رینجرز نے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس پر ان کے دستخط نہیں ہے۔ کیا ڈی جی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ رپورٹ پر دستخط کریں۔

رینجرز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لیاری کے چار تھانوں کی حدود میں نو گو ایریاز ختم کر دیےگئے ہیں۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے سوال کیا کہ جو ملزم گرفتار ہوئے ہیں انہیں کس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے کس نوعیت کا اسلحہ برآمد ہوا ہے؟

’ آپ لوگ اغوا میں گرفتاری دکھاتے ہیں اور پولیس غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں ظاہر کرتی ہے‘۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جسٹس امیر ہانی مسلم نے پولیس سے سوال کیا کہ جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟

ایس ایس پی طارق دہاریجو نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، انھوں نے بتایا کہ رینجرز نے ایک ایسا شخص بھی پولیس کے حوالے کیا ہے جو ذہنی معذور ہے۔

جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ تو کیا اب آپ پاگلوں کا ٹرائل کریں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2011 سے 2013 تک صورت حال بہتر ہو جاتی اگر عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد ہوتا۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے لیاری کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر نوگو ایریاز ختم نہیں ہوئے، آج بھی لیاری کی صورتحال پہلے سے خراب ہے۔

جسٹس امیر ہانی نے حکام سے سوال کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ گزشتہ پندرہ دن میں لیاری کی صورت حال کی بہتری کے لیے کیا اقدمات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے رینجرز حکام کو مخاطب ہوکر سوال کیا کہ لیاری میں اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے اس میں رینجرز کی کمزوری ہے یا اس کا تعاون شامل ہے۔

عدالت میں سٹی کورٹ کے لاک اپ سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات کو بھی اٹھایا گیا، جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ جس روشن دان سے ملزمان کو فرار دکھایا گیا ہے، وہاں سے تو بلی بھی نہیں نکل سکتی۔

ان کا کہنا تھا ایک طرف ملزم گرفتار نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں انہیں فرار کرا دیا جاتا ہے۔ جیلوں کی صورت حال بھی بہت خراب ہے، پہلے منصوبے باہر بنتے تھے اب جیلوں میں بنائے جاتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس مقبول باقر پر حملے کی منصوبہ بندی بھی جیل کے اندر ہوئی تھی۔

آئی جی جیلز نصرت منگھن نے واضح کیا کہ میڈیا رپورٹس غلط ہیں جن ملزمان کا حوالہ دیا گیا ہے وہ پہلے ہی دوسرے شہر کے جیلوں میں منتقل کر دیے گئے تھے۔

اسی بارے میں