لوڈشیڈنگ پر خیبر پختوانخوا حکومت کا احتجاج

Image caption ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا تقریباً اڑتیس سو میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے

وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر اختلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے کو اس کا حق نہیں دیا گیا تو وہ ہر سطح پر احتجاج کریں گے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اپنے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے لیکن صوبے کی اپنی ضروریات کو پورا نہیں کرنے کے لی بھی بجلی نہیں ملتی۔

انھوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے کو لوڈ شیڈنگ کا مکمل ٹائم ٹیبل اور لوڈ کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

پریس کانفرنس میں موجود پیسکو کے سربراہ نے بتایا کہ صوبے کو انیس سو میگا واٹ بجلی مل رہی ہے جس پر وزیر اعلی نے پیسکو چیف سے کہا کہ وہ غلط بیانی سے کام نہ لیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انیس سو میگا واٹ بجلی مل رہی ہے تو پھر اتنی لوڈ شیڈنگ کیوں کی جارہی ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت آج ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر سے رابطہ کر کے انھیں مسائل سے آگاہ کرے گی۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں وہ اختلاف نہیں چاہتے لیکن اگر وفاقی حکومت صوبے کو اس کا حق نہیں دے گی تو احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے ۔

وزیر اعلی نے کہا ہے کہ بجلی فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ایک سازش کے تحت صوبے میں ان کی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسا کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے وہ نہیں جانتے لیکن وہ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس مسئلے پر وہ عوام کے ساتھ موجود ہیں۔

گزشتہ روز تحریک انصاف کے منتخب اراکین نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ لوڈشیڈنگ کے خلاف پیر سے احتجاجی مہم شروع کریں گے جس میں وزیر اعلی بھی شامل ہوں گے۔

اس اخباری کانفرنس میں موجود جماعت اسلامی کے رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر مولانا سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر واپڈا کوخیبر پختونخوا کو دے دیا جائے تو وہ پہلے اس سے اپنے صوبے کی ضرورت پورا کریں گے اس کے بعد باقی صوبوں کو بجلی فراہم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے پاس وافر پانی ہے جہاں غیر متنازعہ مقامات پر ڈیم بنا کر سستی بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں اختیارات دیے جائیں تو وہ تین سالوں میں ملک کو بجلی کی ضروریات پوری کردیں گے اگر ایسا نہ کر سکے تو انھیں سزا دی جائے۔

اسی بارے میں