’انسدادِ دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا جائے‘

پاکستان کے ایوان ِبالا یعنی سینیٹ کی خارجہ امور سے متعلق قائمہ کمیٹی نے ملک میں موجود غیر ملکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت سے قومی ادارہ برائے انسدادِ دہشت گردی کو فوری قیام عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر اس ضمن میں عملی اقدامات نہ کیےگئے تو پھر ملک میں نہ غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور نہ ہی سیاح یہاں کا رخ کریں گے۔

کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ چین نے متعدد بار شکایت کی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں کچھ شدت پسند آباد ہیں جو چین میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن حکومت نے اس بارے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کمیٹی کا اجلاس پیر کو سینیٹر حاجی عدیل کی سربراہی میں ہوا جس میں نانگا پربت پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل کے واقعہ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

گلگت بلتستان پولیس کے سابق سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ عثمان زکریا نے خارجہ امور سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کوہ پیماؤں کے لیے ناگا پربت جانے سے پہلے مقامی پولیس کو مطلع کرنے سے متعلق کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی کوہ پیما کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات نہیں کیے جاتے اور اگر گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات ہوتے تو وہ بھی ہلاک ہو جاتے۔

خیال رہے کہ 23 جون کو پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے نصف شب کو ایک مقامی ہوٹل کے اندر گھس کر غیر ملکی کوہ پیماؤں پرحملہ کیا تھا جس میں 10 غیر ملکی سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔

سابق آئی جی گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا اس کے فوراً بعد انتظامیہ نے مقامی جرگے سے تعاون کی مدد مانگ لی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کے قتل میں مقامی شدت پسند شامل ہیں جبکہ باہر سے آ کر کسی بھی شدت پسند کے لیے کارروائی کرنا ممکن نہیں ہے۔

سابق آئی جی نے کہا کہ مقامی شدت پسندوں میں سے دس کا تعلق دیا میرسے، تین کا کوہستان سے جبکہ دو کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں گرفتار ہونے والے ایک ملزم حضرت عمر نے بیان دیا ہے کہ وہ ان غیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل میں ملوث نہیں تاہم اسے اس واقعہ کے رونما ہونے کے بارے میں علم تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملزم نے بیان میں کہا ہے کہ اس حملے کی ہدایت کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے دی تھی اور اس میں کہا گیا تھا کہ یہ حملہ طالبان کمانڈر ولی الرحمن اور پاکستان میں جاری ڈرون حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔

چیف سیکرٹر ی کا کہنا تھا کہ حیرت ہے کہ چینی کوہ پیماؤں کو ڈرون حملوں کا بدلہ لینےکی خاطر کیوں قتل کیا گیا؟

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں اس وقت بھی 450 کوہ پیما موجود ہیں اور ان سیاحوں کا اعتماد اُس وقت بحال ہوگا جب غیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل میں ملوث اصل ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا۔

گلگت بلتستان پولیس کے سابق سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ عثمان زکریا کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد آئی جی اور چیف سیکرٹری کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا طریقہ کار مناسب نہیں ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے امور کے وفاقی وزیر برجیس طاہر کا کہنا تھا کہ ان افسران کی تبدیلی میں نہ تو اُن سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی اُنھیں ان افسران کی تبدیلی کے بارے میں کوئی علم ہے۔

اسی بارے میں