کوئی ادارہ آڈٹ سے مستثنیٰ نہیں ہے: سپریم کورٹ

Image caption عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے حساس ریاستی امور کی آڈٹ رپورٹوں کی تشہیر اس انداز میں نہیں ہونی چاہیے جس سے سرکاری راز افشا ہوں

سپریم کورٹ نے وزارت اطلاعات ونشریات کے خفیہ فنڈر کے استعمال سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے تحت کوئی بھی ادارہ آڈٹ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ان فنڈز کے آڈٹ کا طریقۂ کار شفاف نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اکاؤنٹس کمیٹی کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس مقدمے کا فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ بے ضابطگیوں کے سدباب کے لیے ایسے تمام کھاتوں کی جانچ پڑتال آڈیٹر جنرل سے کروانا لازمی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ بعض حساس ریاستی امور میں خاص رازداری کی ضرورت ہوتی ہے اور بے جا تشہیر نقصان کا باعث ہو سکتی ہے اس لیے آڈیٹر جنرل کی جانچ پڑتال اور ان کی رپورٹوں کی تشہیر اس انداز میں نہیں ہونی چاہیے جس سے سرکاری راز افشا ہوں۔

تاہم سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مگر اس سلسلے میں آئینی حدود میں رہتے ہوئے قانون سازی درکار ہے۔

حامد میر، ابصار عالم اور دیگر چند صافیوں کی طرف سے دائر کی گئی ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات پر استعمال ہونے والا وزارت اطلاعات ونشریات کے خفیہ فنڈز کو ختم کردیا جائے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وزارتِ اطلاعات ونشریات نے ایک فہرست پیش کی تھی جس میں صحافیوں کو دی جانے والی مالی امداد اور اُن کے بیرونی دوروں پر اُٹھنے والے اخراجات کا ذکر کیا گیا تھا جبکہ دوسری فہرست عدالت میں پیش نہیں کی گئی تھی جس میں عام خیال یہی کیا جارہا ہے کہ اس میں اُن صحافیوں اور اخباری مالکان کے نام شامل ہوسکتے ہیں جنھیں مبینہ طورپر اس خفیہ فنڈز سے لاکھوں روپے دیے گئے ہیں۔

گُذشتہ دور حکومت میں وزرات اطلاعات نے آڈیٹر جنرل سے خفیہ فنڈز کا آڈٹ کروایا تھا لیکن اس کو منظرِعام پر نہیں لایا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد کوئی ادارہ بھی آڈٹ سے مستثنیٰ نہیں ہے کیونکہ اس ضمن میں آئین کے آڈیٹر جنرل کے اختیارات کے دائرہ کار کا خود ہی تعین کردیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ حکومتی کھاتوں کے حساب کتاب کے طریقۂ کار کا جائزہ لینا بھی آڈیٹر جنرل کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ خفیہ کھاتوں سے متعلق فی الوقت رائج طریقِ کار کا پیشہ ورانہ جائز ہ لیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر آڈیٹر جنرل اس طریقِ کار سے مطمئن نہیں تو وہ ایک نیا موثر اور شفاف طریقِ کار وضع کرنے کے مجاز ہیں

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ گُذشتہ مالی سال کے دوران 27 وزارتوں میں تین ارب 75 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت عوام کے پیسوں سے چلتی ہے اس لیے ایک ایک پائی کا آڈٹ ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں