خیبر پختونخوا: ضمنی انتخابات، سیاسی اتحادی یکجا

Image caption خیبر پخونخوا میں قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخاب اگست کی بائیس تاریخ کو ہوں گے

خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے اور حزب اختلاف میں جو سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد بنے تھے، اب ضمنی انتخابات کے لیے بھی اُنھی جماعتوں نے آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا بظاہر انتخابی اتحاد قائم کر لیے ہیں۔

مخلوط حکومت میں شامل چار جماعتیں متفقہ امیدواروں پر راضی ہیں اور ادھر حزب اختلاف میں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام امیدواروں پر ہم خیال بن چکی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں قومی وطن پارٹی ، جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد نے ضمنی انتخابات کے لیے متفقہ امیدواروں پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

وزیر اعلیٰ خبیر پختونخواہ پرویز خٹک نے گزشتہ روز اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اخباری کانفرنس میں کہا کہ کہ ایک حلقے میں وہ جماعت اسلامی کے امیدوار کی حمایت کریں گے جبکہ باقی تمام حلقوں میں جماعت اسلامی، آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی اور شہرام گروپ کا عوامی جمہوری اتحاد تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔

خیبر پخونخوا میں قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخاب اگست کی بائیس تاریخ کو ہوں گے۔

اگرچہ بڑی تعداد میں امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں لیکن بیشتر سیاسی جماعتوں کو کچھ حلقوں میں امیدواروں کی نامزدگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اب تک قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک پشاور اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے۔ستائیس لکی مروت کے لیے اپنے امیدوراوں کا حتمی اعلان نہیں کر پائی ۔ این اے۔ایک کے لیے تحریک انصاف کے رہنما گل بادشاہ کا نام لیا جا رہا ہے لیکن پارٹی کے اندر اختلاف کی وجہ سے اب تک ان کے حق میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتیں نظریاتی اختلافات کے باوجود سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر راضی ہوگئی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ان ضمنی انتخابات میں ایک دوسرے کے امیدواروں کی حمایت کریں گے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس ایڈجسٹمنٹ کو نظریاتی اور سیاسی حوالے سے یہ کہہ کر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دونوں جماعتیں تاریخی اعتبار سے ہم خیال رہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں آج کچھ فیصلے کیے گئے ہیں لیکن تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سطح پر جماعت کے نامزد امیدوار کون ہوں گے۔

یہاں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں وہاں مسلم لیگ کا اثر زیادہ نہیں پایا جاتا۔ ضلع بنوں کے حلقے میں اگرچہ کچھ ووٹ بینک ہے لیکن اب تک اس حلقے میں یہ فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ کس امیدوار کو نامزد کیا جائے گا۔ تحریک انصاف نے اس حلقے میں مسلم لیگ کے اہم رہنما ناصر خان کے بھتیجے کو نامزد کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی صوبے میں اس وقت زیادہ متحرک نظر نہیں آ رہی، یہاں تک کہ جماعت کے صوبائی صدر انور سیف اللہ خان نے عام انتخابات میں شکست کے بعد اب ضمنی انتخاب میں کاغذات نامزدگی بھی جمع نہیں کرائے ہیں۔ جماعت نے این اے۔ایک پر ذوالفقار افغانی کو امیدوار نامزد کیا ہے لیکن انتخابی مہم کے لیے کوئی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دھاندلی نہ ہوئی تو ضمنی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی لگ بھگ دو ماہ کی کارکردگی کا امتحان ہوگا اور اس امتحان کا فوری طور پر نتیجہ بھی ظاہر ہو جائے گا۔

اسی بارے میں