رانی کھیت کی بیماری، تیس مور ہلاک

Image caption محکمہ جنگلی حیات سندھ کے مطابق صحرائے تھر میں موروں کی تعداد اسّی ہزار ہے

پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں ایک بار پھر موروں میں رانی کھیت کی بیماری پھیل گئی ہے اور محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اس وائرس میں ایک ماہ میں تیس مور ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ہلاک ہونے والے موروں کی تعداد 120 ہے۔

اسسٹنٹ کنزرویٹر محکمہ جنگلی حیات لجپت شرما نے بتایا کہ منگل کے دن بھی ڈیپلو تحصیل گاؤں گرڑی میں مزید دو مور ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی لوگ اس کی تعداد چار بتاتے ہیں۔

شرما نے دعویٰ کیا کہ رانی کھیت میں اس سال تیس کےقریب مور ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سوسائٹی فار کنزرویشن اینڈ پروٹیکشن آف انوائرمینٹ کے پاس ان کی تعداد 120 ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مور صحرائے تھر میں پائے جاتے ہیں۔

محکمہ جنگلی حیات سندھ کے مطابق صحرائے تھر میں موروں کی تعداد اسّی ہزار ہے۔

اسٹنٹ کنزرویٹر محکمہ جنگلی حیات لجپت شرما کے مطابق رانی کھیت وائرس تمام دیہاتوں میں موجود نہیں۔ ’یہ بیماری ان دیہاتوں میں ہے جہاں لوگ باہر سے مرغیاں لاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مرغیاں رانی کھیت میں مبتلا ہوتی ہیں جن سے یہ وائرس موروں میں منتقل ہوجاتا ہے۔‘

محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ محکمہ مرغبانی کے ڈاکٹروں کی مدد سے ویکیسن کرائی گئی ہے اور جس گاؤں سے شکایت آتی ہے اس کے آس پاس بھی ویکیسن کی جاتی ہے۔

زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے محکمہ مرغبانی کے پروفیسر اسماعیل رند کا کہنا ہے کہ رانی کھیت بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’وائرس پھیل جائے تو اس کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ بیماری سے پہلے پرندوں کی ویکیسن کردی جائے۔‘

پروفیسر اسماعیل رند کے مطابق بڑے پرندوں کو پانی کے ذریعے ویکسین دی جاسکتی ہے۔

ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے بھی موروں کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔

ادارے کے اہلکار الطاف ابڑو کا کہنا ہے کہ تھر میں 2300 دیہات ہیں جن میں سے چودہ سو ایسے ہیں جہاں مور پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گاؤں میں محکمہ جنگلی حیات کا پہنچانا ممکن نہیں کیونکہ ان کے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کمی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ وائرس پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں