’دھماکہ کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تھی‘

Image caption موٹر سائیکل کے سائلینسر، ٹنکی اور بتیوں میں بارود بھرا گیا: ملزم ابوبکر

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جسٹس مقبول باقر پر حملے کے الزام میں دو ملزمان کو اٹھائیس جولائی تک جسمانی رمانڈ پر سی آئی ڈی پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

محمد معاویہ اور ابوبکر کو جمعہ کو غیر معمولی حفاظتی انتظامات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج غلام مصطفیٰ میمن کے روبرو پیش کیا گیا

سماعت کے دوران پولیس نے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ کی درخواست کی جسے عدالت نے قبول کر لیا۔

اس سے پہلے محمد معاویہ اور ابوبکر کو صبح سویرے میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ان کے چہروں پر کپڑا ڈالا گیا تھا اور دونوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے جسٹس مقبول باقر پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

پولیس نے محمد معاویہ کو دو روز قبل سرجانی ٹاؤن میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر اس کے والد بشیر لغاری اور رشتے دار قاری امین کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کا موقف ہے کہ اس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں قاری بشیر زخمی ہوگئے تھے جنہیں جناح ہپستال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

ملزم ابوبکر نے بتایا کہ جسٹس مقبول باقر پر حملے کی منصوبہ بندی بشیر لغاری کے گھر پر کی گئی تھی اور حملے کے بعد بشیر لغاری نے اسے’ شادی مبارک‘ کا ایس ایم ایس بھی بھیجا تھا۔

Image caption اس دھماکے میں سات اہلکار ہلاک اور جسٹس مقبول باقر شدید زخمی ہوگئے تھے

بشیر لغاری کے بیٹے محمد معاویہ نے میڈیا کو بتایا کہ حملے سے پہلے ناموں کے قرعے نکالے گئے تھے جس میں دھماکہ کرنے کے لیے ابوبکر کا نام نکلا تھا۔

ابوبکر عرف سعد اللہ عرف عمر کا کہنا تھا کہ دھماکے میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل خدا کی بستی کے علاقے سے چھینی گئی تھی، جس کے سائلینسر، ٹنکی اور بتیوں میں بارود بھرا گیا اور پھر 26 جون کو جسٹس مقبول باقر کے قافلے کی گذرگاہ پر اس نے ریموٹ کا بٹن دبا کر دھماکہ کیا تھا۔

ابوبکر نے کیماڑی کے علاقے میں ایڈووکیٹ کوثر ثقلین اور ان کے دو بیٹوں کو بھی نشانہ بنانے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے قاری بشیر کے احکامات پر ہی وہ کارروائی کی۔

ڈی آئی جی جنوبی امیر شیخ کا کہنا ہے ملزم بشیر لغاری ہی جسٹس مقبول باقر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا اور انہیں اوپر سے ہدایات تھیں لیکن مقامی طور پر وہی منصوبہ ساز تھے۔

دوسری جانب اہل سنت و الجماعت نے پولیس کے الزامات مسترد کیے ہیں اور کہا کہ مقتول بشیر لغاری سماجی رضاکار اور دیوبند ایکشن کمیٹی کراچی کے چیئرمین تھے اور ان کا لشکر جھنگوی سے کوئی تعلق نہ تھا۔

واضح رہے کہ ایک ماہ قبل جسٹس مقبول باقر پر اس وقت بم حملہ کیا گیا تھا جب وہ تین پولیس موبائلز اور موٹر سائیکل پر سوار رینجرز اہلکاروں کی حفاظت میں اپنی رہائش گاہ سے ہائی کورٹ کی طرف جا رہے تھے۔ اس دھماکے میں سات اہلکار ہلاک اور جسٹس مقبول باقر شدید زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں