پاکستان کی آئندہ نسلوں کے لیے زبانی تاریخ

Image caption تصویر بشکریہ ’کیپ‘

’میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے تاریخ میں، معاشرتی علوم میں پڑھا ہے کہ لوگوں نے پاکستان بنانے کے لیے قربانیاں دیں تو وہ جو میرے خاندان ہے یا دوسرے لوگ ہیں انہیں قربانیاں اس لیے نہیں دینی پڑی تھی کہ وہ پاکستان چاہتے تھے بلکہ پاکستان بننے کی وجہ سے ان پر جو مشکلیں آئیں تو انہیں نقل مکانی کر کے یہاں آنا پڑا تھا۔‘

یہ سوال سٹیزن آرکائیو آف پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں گزشتہ دنوں ’کچھ خاص‘ میں منعقد ہونے والے تین روزہ تاریخی کہانیاں کے سلسلے کے دوران ایک نوجوان نے اٹھایا۔

’قصہ خوانی‘ نامی اس سلسلے کا مقصد قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں بزرگ شہریوں کو پیش آنے والے قابل ذکر واقعات کو انہی کی زبانی سنانے اور ریکارڈ کر کے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنا تھا۔

اس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں جو وہ سکول کالجوں میں پڑھتے ہیں اور جو وہ اپنے بڑے بوڑھوں سے سنتے ہیں اس میں انہیں ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔

آسکر انعام یافتہ پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے کی سٹیزن آرکائیو آف پاکستان نامی یہ غیرسرکاری تنظیم گزشتہ چھ سالوں سے تقسیم ہند کی زبانی تاریخ کو جمع کرنے میں مصروف ہے۔ مقصد یہی کہ جتنی زیادہ تاریخ جمع اور محفوظ کی جا سکے اتنا ہی بہتر ہے۔

Image caption تصویر بشکریہ ’کیپ‘

تنظیم کیپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر صالحہ عالم شہزادہ کہتے ہیں کہ اس منصوبے کے تحت وہ ان لوگوں کے انٹرویو محفوظ کر رہے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد کے ابتدائی دن میں قابل ذکر واقعات دیکھے ہوں۔

’ان میں سول سرونٹس، پروفیشنل اور عام لوگ ہر کسی کا انٹرویو کیا جاتا ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ ہر شخص تاریخ کو اپنی نگاہ سے دیکھتا ہے تو جو تاریخ آپ جمع کر رہی ہیں اس کا آپ میں کہیں ملاپ بھی ہے یا مختلف ورشن سامنے آتے ہیں؟ صالحہ کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار مختلف واقعات کے متضاد پہلو سامنے آتے ہیں۔ لیکن جب ان پر تحقیق ہوتی ہے تو مفروضوں اور حقیقت میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔

’بعض اوقات بزرگ افراد کسی واقعے کے کئی پہلو بھول جاتے ہیں یا اس میں اپنے جذبات شمال کر دیتے ہیں لیکن اہم یہ ہے کہ آپ کہانی اکٹھی کریں اور سنے یا دیکھنے والے پر چھوڑ دیں کہ وہ خود اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔‘

Image caption تصویر بشکریہ ’کیپ‘

کیپ آج تک اڑھائی ہزار گھنٹوں سے زائد کے انٹرویو محفوظ کر چکی ہے۔ صالحہ عالم شہزادہ کہتے ہیں کہ اس منصوبے کا فائدہ سب کو ہوگا۔

’تحقیق کرنے والے، صحافی اور لکھاری سب اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بیرون ملک سے بھی درخواستیں آتی ہیں۔ طالب علم مدد مانگتے ہیں۔ کسی کو تصویریں چاہیے ہوتی ہیں تو کسی کو ویڈیو۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک دن اس اثاثے کو عجائب گھر کی شکل دے دیں۔‘

قومی تاریخ محض جمع ہی نہیں کی جا رہی بلکہ نوجوان نسل کو ساتھ ساتھ منتقل بھی کی جا رہی ہے۔

اس کا اہتمام ’قصہ خوانی‘ جیسے سلسلوں کو منعقد کر کے کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں اس بابت معروف شاعرہ کشور ناہید نے بھی اپنی کہانیاں وہاں موجود نوجوانوں کو سنائیں۔

ان کا موقف تھا کہ اس طرز کی کسی سرکاری کوشش کی غیرموجودگی میں یہ قابل ستائش منصوبہ ہے۔

Image caption تصویر بشکریہ ’کیپ‘

’لوگوں نے اپنی یادداشتیں بہت کم لکھی ہیں۔ جو لکھ سکتے تھے انہوں نے لکھی جیسے کہ حمید اختر نے لکھی، خشونت سنگھ نے لکھی۔ ہمارے ہاں تاریخ کی بہت ضرورت ہے کیونکہ جغرافیہ اور تاریخ دونوں ختم ہو چکے ہیں۔‘

پاکستان میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی صحت کے بارے میں کافی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ایسے میں نوجوان نسل کو تاریخ جمع کرنے کا کیا فائدہ ہوگا؟

نوجوان طالب علم نمیرا حمید کہتی ہیں کہ نوجوان اب بھی سوال پوچھتے ہیں کہ پاکستان بنا کیوں تو جب کیپ اسے محفوظ کر رہا ہوگا تو یہ سوالات کم ہو جائے گے۔ ’اگر تاریخ صحیح طریقے سے پڑھائی گئی ہو تو یہ سوال سامنے نہیں آنا چاہیے۔‘

زبانی تاریخ کسی ملک کی مجموعی تاریخی تصویر بنانے میں تو شاید معاون ثابت نہ ہو لیکن اس سے تاریخ کا اصل رنگ، گہرائی اور ذائقہ ضرور آ جاتا ہے۔

اسی بارے میں