میلسی: باورچی نے زہر دینے کا اعتراف کر لیا

پاکستان میں سیاسی اختلافات کو خاندانی دشمنی میں تبدیل کرنے کی روایت کوئی نئی نہیں اور سیاسی مخاصمت پر قتل کی وارداتیں بھی عام ہیں۔

پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی میں حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی جہانزیب خان کچھی کے ڈیرے پر زہریلا کھانا کھانے سے ہونے والی 22 ہلاکتوں اور پھر ان کے باورچی رفیق کے اعترافِ جرم نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق تقریباً ایک ماہ پہلے جانزیب کچھی کے ڈیرے پر کھانا کھانے کے بعد 50 سے زائد افراد کی حالت غیر ہوئی۔ کچھ لوگ تو موقعے پر ہی ہلاک ہوئے اور کچھ نے ہسپتالوں میں دم توڑا۔

زہریلا کھانا کھانے والوں میں جہانزیب کچھی کی والدہ اور بہن بھی شامل تھیں جنہیں بعد میں طبی امداد دے کر بچا لیاگیا۔

وہاڑی کے ضلعی پولیس افسر صادق علی ڈوگر کے مطابق چند روز پہلے 37 برس تک جہانزیب کچھی کے ڈیرے پر کام کرنے والے باورچی رفیق نے اعتراف کیا کہ اس نے کھانے میں زہر ملایا تھا۔

رفیق نے یہ کام جہانزیب کچھی کے سیاسی مخالف ارسل کچھی کے کہنے پر کیا۔ اس بیان کے بعد ارسل کچھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

ارسل کچھی کے والد افضل خان کچھی اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں لیکن ارسل ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے۔

صادق علی ڈوگر کہتے ہیں ’ارسل کچھی 15 جولائی کو دوبئی فرار ہوگیا، اس کی گرفتاری کے لیے ہم ریڈ وارنٹ جاری کروا رہے ہیں۔ رفیق کے اعتراف جرم سے پہلے ہی وہ بیرون ملک جا چکا تھا۔ دوبئی میں ارسل کچھی کا کاروبار بھی ہے۔ اب اس بات کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا اسے رفیق کے اعتراف جرم کی اطلاع مل گئی تھی یا وہ معمول کے دورے پر بیرون ملک ہے‘۔

جہانزیب کچھی کا تعلق پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے۔ ان کا خاندان کئی نسلوں سے میلسی سے الیکشن لڑتا اور جیتتا آیا ہے۔ ان کے سیاسی مخالف ارسل کچھی ان کے رشتےدار ہیں۔

حالیہ عام انتخابات میں ارسل کچھی آزاد حیثیت میں جہانزیب کچھی کے مدمقابل کھڑے ہوئے اور محض چند سو ووٹ ہی لے سکے۔

جہانزیب کچھی کہتے ہیں کہ پولیس ان سے تعاون کر رہی ہے تاہم کچھ عناصر ایسے ہیں جہنوں نے ارسل خان کوفرار ہونے میں مدد دی۔

جہانزیب کچھی کا کہنا ہے ’اصل ملزم رفیق ہے جس نے کھانے میں زہر ملایا۔ ارسل کے کہنے پر اس نے تو اعترافی بیان ایک دو دن پہلے پولیس کو دیا تھا۔ ڈی ایس پی صدر وہاڑی ارسل کچھی کے قریبی عزیز ہیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ معلومات انھوں نے ارسل تک پہنچائیں اور وہ ملک سے فرار ہوا‘۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انٹرپول سے ارسل کچھی کے ریڈ وارنٹ جاری کروانے میں ایک ہفتہ درکار ہوگا جس کے بعد ہی ارسل کو ملک واپس لانے کے لیے کوئی کارروائی شروع ہو سکے گی۔ ہو سکتا ہے اس سارے عمل میں کئی ہفتے اور مہینے لگ جائیں۔

جہانزیب کچھی کا ماننا ہے کہ عدالت کی دلچسپی سے ہی ہلاک ہونے والے 22 خاندانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’ہمارے چیف جسٹس صاحب موجود ہیں۔ انھوں نے جس طرح شاہ زیب قتل کیس میں جتوئی صاحبان کو دوبئی سے بلوایا۔ یہ 22 زندگیوں کا معاملہ ہے اس پر چیف جسٹس صاحب ضرور حرکت میں آئیں گے اور وزیراعلی پنجاب بھی اس میں دلچسپی لیں گے، ہمیں انصاف ملے گا اور اگر ارسل کچھی خود کو بے گناہ سمجھتا ہے تو بھی اسے پاکستان واپس آ کر عدالت کا سامنا کر کے خود کو بے گناہ ثابت کرنا ہوگا‘۔

زہریلا کھانا کھانے سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد میلسی میں خوف وہراس کی فضا ہے۔

پنجاب حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور متاثر ہونے والوں کو علاج کی سہولت دی گئی تاہم جہانزیب کچھی کہتے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی مدد کا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیراعلی پنجاب نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے آئی جی پنجاب محکمۂ صحت اور خوراک کے اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد جہانزیب کچھی کی زمینوں پر کام کرنے والے مزارعوں کی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پنجاب حکومت اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

اسی بارے میں