خیبر:چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت انیس ہلاک

Image caption عسکری ذرائع کے مطابق آپریشن خیبر ٹو سنیچر اور اتوار کو شروع کیا گیا

پاکستان کے نیم قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ذرائع کے مطابق خیبر آپریشن نامی اس کارروائی میں پندرہ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور نیم قبائلی علاقے ایف آر کوہاٹ کے درمیان واقع علاقے زاؤ خرمہ تنگ میں سکیورٹی فورسز کی’خیبر ٹو‘ کے نام سے شدت پسندوں اور جرائم پشیہ افراد کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق سرگرا اور شیرگرا چوٹیوں کو شدت پسندوں سے کلیئر کرنے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پندرہ شدت پسند اور چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ آپریشن میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو رسد کا زیادہ حصہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے گزر کر جاتا ہے اور اس ایجنسی میں نیٹو سپلائی پر کئی بار حملے بھی ہو چکے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ کئی سالوں سے سکیورٹی فورسز کے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کارروائیاں جاری ہیں۔ان کارروائیوں کے دوران جہاں بڑی تعداد میں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا وہیں سکیورٹی فورسز کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پرا۔

اس ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران فضائی طاقت کا استعمال کیا گیا جس میں عام شہری بھی مارے گئے جبکہ لاکھوں افراد علاقے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے لیکن علاقے میں کئی سالوں سے جاری ان کارروائیوں میں شدت پسندوں کا مکمل صفایا یا علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں شدت پسند کارروائیاں کرنے کے بعد ان ہی علاقوں میں روپوش ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں