’امن کے لیے کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں‘

Image caption پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے، نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کے عمل کو آگے بڑھائے۔

نواز شریف نے یہ بات سنیچر کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کے دورے میں خارجہ پالیسی کے بارے بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر امن ماحول کے قیام میں مثبت کردارادا کرے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نواز شریف نے تجارت کے فروغ اور اقتصادی سفارت کاری پرعملدرآمد کرنے پر خاص طور پر زور دیا۔

بریفنگ کے بعد وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں کسی خاص گروپ کا حامی نہیں اور وہ سرتاج عزیز کو واضح پیغام کے ساتھ کابل بھجوا رہے ہیں کہ پاکستان متحدہ افغانستان کا حامی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں کسی خاص گروپ کے ساتھ منسلک نہیں اور اس لیے افغانستان اور خطے کے امن کی خاطر جس گروپ سے بھی بات کرنے کی ضرورت پڑی، اس سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے۔

اس سے پہلے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر روشنی ڈالی جن کے تناظر میں پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

بریفنگ میں ہمسایہ ممالک سے پاکستان کے دوطرفہ تعلقات اور دیگر اہم تعلقات پر توجہ مرکوز رہی۔

سیکرٹری خارجہ نے اہم ملکوں سے تعلقات کے مرکزی پہلوئوں پر روشنی ڈالی اور دفترخارجہ کی سفارشات پیش کیں۔

قومی سلامتی اور امور خارجہ کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور امور خارجہ کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی بریفنگ میں موجود تھے۔

اسی بارے میں