پاکستانی اشتہارات میں صنفی امتیاز

Image caption ’اشتہارات میں عورت کو ایک چیز یا چیز کی علامت کے طور پر پیش کرنا اس کا استحصال ہے‘

پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کی جانب سے اشتہارات کے متعلق ضابطہ اخلاق میں ہر اُس مواد کو چلانے کی ممانعت ہے جو ’غیر مناسب‘ ہو یا ایسے موضوعات پر مبنی ہو جس پر بات کرنے سے کسی کو تکلیف پہنچے۔

پیمرا کی طرف سے ضابطۂ اخلاق کے باوجود پاکستان میں آئے روز ایسے اشتہارات ہماری نظروں کے سامنے سے گُزرتے رہتے ہیں جن میں خواتین کے بارے میں دقیانوسی خیالات کا پرچار عام ہوتا ہے۔

’کاش میں نے پہلی والی نہ چھوڑی ہوتی‘ ، ’دوہری شہریت کے مزے‘ ، کسی مخصوص گھی اور تیل کے ڈبے کے ذریعے سُسرال میں اعلیٰ مقام اور اس جیسے کئی دوسرے اشتہارات ، پاکستان کے مقامی چینلزاکثر نشر کرتے رہتے ہیں۔

بعض حالیہ اشتہارات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر گوری رنگت نہ ہو تو آپ نہ صرف اپنی نجی بلکہ پیشہ وارانہ زندگی میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

ایسے ہی اشتہارات کے بارے میں صحافی عافیہ سلام کہتی ہیں کہ یہ اشتہارات ، بڑی حد تک ہمارے کلچر ، ہماری ثقافت کے لحاظ سے نامناسب ہوتے ہیں اور ان میں صنفی امتیاز کے ساتھ ساتھ جنس کے بارے میں غیر سنجیدگی بھی نظر آتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ نشوونما ، صحت یا اچھی زندگی سے متعلق اشتہارات میں صرف اور صرف لڑکوں کو دکھایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس خواتین کو اشتہارات میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے معاشرے میں اُس کی قبولیت کی معراج اچھے چاول یا کھیر بنانے پر منحصر ہے اور اُن کا اپنا کردار ،تعلیم اُن کا معاشرے میں رویہ وغیرہ کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے۔

انہوں نے اشتہار سازی کی صنعت کو حساس بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی دقیانوسی خیالات رائج ہیں اور اشتہاروں کے ذریعے انہیں مزید تقویت نہیں دینی چاہیے۔

پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی سندھ میں ترجمان مہناز رحمان کا ماننا ہے کہ اشتہارات میں عورت کو ایک چیز یا چیز کی علامت کے طور پر پیش کرنا ، عورت کا استحصال اور ان کے ساتھ زیادتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو چیزیں خالص مردوں کے استعمال کی ہوتی ہیں اُن کے اشہارات میں بھی عورتوں کو ترغیبی انداز میں دکھایا جاتا ہے اور منافع کمانے کی خاطر کسی قدر ، کسی نظام یا معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

اس بارے میں پاکستان میں اشتہار سازی کی صنعت سے وابستہ عامر ملک کا کہنا ہے کہ اشتہارات کی کامیابی کے لیے ان میں ثقافتی ، مذہبی ، معاشرتی اور جمالیاتی ربط موجود ہونا ضروری ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ صنفی امتیاز جان بوجھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ یہ ثقافتی مسئلہ ہے جس میں تھوڑا بہت مذہبی عُنصر بھی شامل ہوجاتا ہے اور ایسا صرف پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں بننے والے اشتہارات میں ہی دیکھنے میں آتا ہے جہاں لڑکے کھیل کھیلتے جبکہ لڑکیاں کھانا پکاتی دکھائی جاتی ہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا ہونا نہیں چاہئے کیونکہ ایسا دُنیا میں کہیں نہیں ہوتا ہے۔

پاکستان میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے دی نیٹ ورک فار کنزیومر پروٹیکشن کے مطابق سن دو ہزار دو میں اشتہارات سازی کی صنعت کی سالانہ آمدنی چار ارب کے قریب ہوتی تھی جو اب تیس سے چالیس ارب کے قریب پہنچ گیا ہے۔

میڈیا پر اشتہارچلانے سے متعلق پیمرا کا ضابطۂ اخلاق تو موجود ہے لیکن تیزی سے فروغ پاتی ہوئی اس صنعت کے مالکان اشتہار سازی میں کسی ضابطۂ اخلاق کی پیروی نہیں کرتے۔

دی نیٹ ورک فار کنزیومر پروٹیکشن کے کورڈینیٹر ندیم اقبال کہتے ہیں کہ ’کارپوریٹ سیکٹر کو اپنی اشیاء فروخت کرنا ہوتی ہیں اگر کسی اشتہار پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اُسے نشر کرنے سے روک دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’خواتین کے بارے میں دقیانوسی قسم کے اشتہارات پر مختلف فورمز جیسے پیمرا اور پریس کونسل آف پاکستان میں بھی سختی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ندیم اقبال کا خیال ہے کہ ’پاکستان میں جو بھی اشتہار سازی کی ایجنسیاں موجود ہیں اُن کے پاس اپنا کوئی ضابطۂ اخلاق موجود نہیں ہے اور وہاں تخلیقانہ کام کرنے والے افراد کی اس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں کی جاتی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس سلسلے میں ایک ضابطۂ اخلاق تو موجود ہے لیکن غیر اخلاقی مواد سے متعلق فیصلہ کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے تو اس ضمن میں شکایات درج کرانا ضروری ہیں تاکہ موجودہ ضابطۂ اخلاق کو بہتر سے بہتر بتایا جاسکے۔