اللہ پہ چھوڑ دیں: دوسرا حصہ

Image caption ’ان پائلٹ لڑکیوں نے اگر یہ سوچ لیا کہ اللہ پر چھوڑ کے بہت دیکھ لیا اب خود ہی کچھ کرتے ہیں تو خدا جانے انجام کیا ہوگا‘

مکرمی عدنان رشید!

باقی قوم کی طرح میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ ہمارا مسئلہ تعلیم نہیں ہے۔ اگر قلم تلوار سے واقعی طاقتور ہوتی تو ہندوستان کا حکمران غالب ہوتا انگریز صاحب بہادر نہیں۔ کروڑوں لوگ تعلیم حاصل کرکے بیٹھے ہیں اور غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔

اللہ پر چھوڑ دو: پہلا حصہ

اصل مسئلہ تو عورتیں ہیں۔ آپ نے سوات کے پہلے انقلاب پر تحقیق کی تھی تو یقیناً دیکھا ہوگا کہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں بچا جس میں عورتیں نہ گھس گئی ہوں۔ کھیتوں میں، ہسپتالوں میں، تھانے کچہریوں میں، کمپیوٹر سکولوں میں، کوئی چادر پہن کر نکلی کسی نے فیشن حجاب کیا، کسی نہ شٹل کاک پہنا، کوئی سر پر دوپٹہ پہن کر چل پڑی جس سے اور کچھ نہ بن پایا وہ گھر کے کمرے میں ہی بیوٹی پارلر کھول کر بیٹھ گئی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ جب سوات میں مولانہ فضل اللہ والا دوسرا انقلاب آیا اور نظام عدل رائج ہوا تو ایک سینیئر صحافی نے انہیں مشورہ دیا کہ طالبان اگر چوک پر لوگوں کے گلے کاٹیں گے تو برداشت کر لیا جائے گا، اگر ہر گلی میں ٹکٹکی لگا کر کوڑے ماریں گے تو کچھ نہیں ہوگا لیکن لڑکیوں کے سکول بند نہ کریں عورتوں کو کام پر جانے سے نہ روکیں۔ لیکن نظام عدل میں ظاہر ہے کہ اس طرح کی گنجائش نہیں تھی۔

سوات میں نظام عدل کو نہ فوج نے شکست دی نہ گنے چنے سرخوں نے انقلاب کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ عورتوں کا گھروں سے نکلنا بند کیا گیا، جواباً ان ’ناہنجار‘ عورتوں نے قوم کا ناطقہ بند کر دیا۔

ثابت یہ ہوا کہ آپ پاکستانی فوج سے لڑ سکتے ہیں امریکہ کو نیچا دکھا سکتے ہیں اپنی فوج کے سربراہ کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد جیل سے فرار ہو سکتے ہیں لیکن اگر آپ اپنی محلے کی ان عورتوں سے دشمنی کریں گے جنہیں اپنی روزی روٹی کمانے کی مجبوری ہے تو ناکامی آپ کا مقدر بن جاتی ہے۔

اور یہ لعنت صرف سوات تک محدود نہیں ہے۔ ملک میں ہر جگہ آپ کے جذبہ جہاد کی قدر پانے والے لوگ پائے جاتے ہیں دامے، دامے سخنے آپ کا مشن آگے بڑھاتے ہیں لیکن دل ہی دل میں یہ ہوکا لگا رہتا ہے کہ بیٹی کا داخلہ کسی اچھی یونیورسٹی میں ہو جائے۔ کوئی ڈاکٹر بنا رہا ہے کوئی کمپیوٹر انجینیر اب تو فیشن ڈیزائن پڑھانے والے سکولوں میں بھی اپنی بیٹیوں کو بھیجنے میں عار نہیں سمجھتے۔

اور یہ مسائل صرف سویلین آبادی تک محدود نہیں رہے آپ نے پائلٹ لڑکیوں کی وہ تصویریں دیکھی ہوں گی جو ایئرفورس پروپیگنڈے کے لیے اخباروں کو جاری کرتی ہے۔ ان میں سے کئی لڑکیاں اب فائٹر پائلٹ بھی بن چکی ہیں۔

آپ فوج کو مجھ سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کو مارنے یا امریکہ سے مروانے کے علاوہ کبھی کیا ہی کیا ہے۔ لیکن کل کلاں ان پائلٹ لڑکیوں نے اگر یہ سوچ لیا کہ اللہ پر چھوڑ کے بہت دیکھ لیا اب خود ہی کچھ کرتے ہیں تو خدا جانے انجام کیا ہوگا۔

اسی بارے میں