اے این پی کے دفتر کے قریب دھماکہ، دو ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لانڈھی میں اے این پی کے دفتر کے قریب دستی بم حملے میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی رات پیش آیا۔

پولیس کے ایک سینئیر اہلکار طاہر نوید نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

پولیس کے ایک دوسرے اہلکار نجیب خان نے اے ایف پی کو واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دو حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور اے این پی کے دفتر پر دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر کے قریب دستی بم پھینکا جس کے نیتجے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما بشیر جان نے رائیٹرز کو بتایا کہ اتوار کو نماز تراویح کے بعد حملہ آوروں نے پارٹی کے دفتر پر پہلے فائرنگ کی اور پھر گرنیڈ پھینکا۔

بشیر جان کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے پھینکے جانے والا گرنیڈ دفتر کی دیوار سے ٹکرانے سے زیادہ نقصان نہیں ہوا تاہم جب ہمارے ساتھیوں نے انھیں پکڑنے کے لیے ان کا پیچھا کیا تو حملہ آوروں نے ایک اور گرنیڈ پھینکا جس سے ہمارے دو کارکن ہلاک ہو گئے۔

خیال رہے کہ سنیچر کو بھی کراچی میں ہونے والے ایک دھماکے میں شہر کے میونسپل کمشنر سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ دھماکہ سنیچر کی شام عیسیٰ نگری کے قبرستان کے قریب ہوا اور اس میں ایک سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

کراچی میں موٹرسائیکل میں نصب بموں کے دھماکوں میں رجحان میں گزشتہ کچھ عرصے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ بھی کراچی کے مصروف علاقے برنس روڈ پر سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کے قافلے کو بھی اسی قسم کے بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حملے میں 7 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور جسٹس مقبول باقر شدید زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں