’مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے‘

Image caption سرتاج عزیز اتوار کو افغان قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے تھے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اگر افغان رہنما چاہیں تو پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔

سرتاج عزیز اتوار کو افغان قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے تھے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام اور افغان دھڑوں کے مابین مذاکرات کے لیے مکمل تعاون کرے گا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں تمام رکاوٹیں دور کرنا چاہتے ہیں جس سے معیشت میں بہتری کے علاوہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی آئے گی۔

ایک روزہ دورے میں سرتاج عزیز نے افغان وزیر خارجہ ڈاکٹر زلمے رسول کے ساتھ بات چیت کی۔ دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور افغانستان میں امن کے امکانات کا جائزہ لیا۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سعید انور کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کابل پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام لے کر افغانستان آئے ہیں۔

انہوں نے کہا ’نئی حکومت اور وزیرِ اعظم نواز شریف دل کی گہرائیوں سے افغان عوام کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہیں‘۔

نامہ نگار کے مطابق کابل پہنچنے پر پاکستانی وفد نے افغان وزیرِ خارجہ زلمے رسول کے ساتھ ملاقات کی جس میں زیادہ تر توجہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات اور علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال پر مرکوز کی گئی۔

افغان حکومت نے متعدد بار پاکستانی حکام پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کرتے ہیں اور شدت پسندوں کے اصل ٹھکانے پاکستان میں موجود ہیں تاہم پاکستانی وفد کے سربراہ سرتاج عزیز نے کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افغان صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا طالبان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا ’جیسا میں نے پہلے کہا طالبان کے ساتھ ماضی کے کچھ رابطے تھے لیکن ہم انھیں کنٹرول نہیں کرتے۔ جب افغان کونسل نے طالبان کے ساتھ ملاقات کروانے اور ان کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی درخواست کی تو ہم نے یہ کام سرانجام دیا۔ افغان امن کونسل کی درخواست پر ہم نے طالبان کے 26 قیدیوں کو رہا کیا اور انھیں محفوظ راستہ بھی فراہم کیا۔ مستقبل میں بھی اگر ہم سے درخواست کی گئی تو دونوں جانب سے مشورے کے بعد اس سلسلے میں ہم اپنا کردار ادا کریں گے‘۔

سرتاج عزیز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیرِ خارجہ زلمے رسول نے کہا کابل ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا ’افغان حکومت کو توقع ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں خاص کر دہشت گردی اور شدت پسندوں کے خلاف جنگ، امن مذاکرات، اقتصادی ترقی اور دونوں ممالک کی عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے‘۔

خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کے مطابق سرتاج عزیز نے افغان وزیرِ خارجہ زلمے رسول سے ملاقات کے بعد کہا ’پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے‘۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن اور سلامتی کے بغیر پاکستان میں امن اور سلامتی کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ پاکستان افغانستان کو تقسیم کرنے کے کسی منصوبے کا حصہ ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا ’پاکستان کا افغانستان میں موجود طالبان پر کچھ اثر و رسوخ ہے تاہم پاکستان انھیں کنٹرول نہیں کرتا‘۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان کو خود اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ انھیں کس طرح کا طرزِ حکومت اپنانا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی طالبان کے کچھ دھڑوں کو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے راضی کیا تھا۔

سرتاج عزیز نے افغانستان کے دورے سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ افغان قیادت سے باہمی تعلقات کی بہتری اور افغان صدر کرزئی کے پاکستان کے دورے کے بارے میں بات کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان فی الوقت نامکمل تجارتی معاہدے پر بھی بات کریں گے۔

اسی بارے میں