پاک بھارت آزادانہ تجارت میں مشکلات

Image caption وزیرِاعظم نوازشریف نے شہریار خان کو بھارت سے چینل ٹو ڈپلومیسی کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے

شاہ زیب وہرہ بھارت سے ربڑ درآمد کرتے ہیں جو ملک کی کئی صنعتوں کے لیے ایک سستا خام مال ہے۔ شاہ زیب بھارت کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے زبردست حامی ہیں۔

’خام مال اگر بھارت سے منگوایا جائے تو اس کا کرایہ بہت کم ہوجاتا ہے۔ اگر مال کراچی سے لاہور منگوایا جائے تو اس پر بھارت کی نسبت زیادہ خرچہ آتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’تجارت میں وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ بھارت سے سامان چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے میں پہنچ جاتا ہے جبکہ کسی بھی اور ملک سے اگر مال درآمد کیا جائے تو اس کے پہنچنے کے لیے کم سے کم ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے اور پھر اسے کراچی سے یہاں پہنچتے ہوئے چار مزید دن لگ جاتے ہیں۔‘

ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی، بات چیت میں تعطل آیا اور باہمی رابطے سرد مہری کا شکار ہوئے تاہم حالیہ انتخابات میں نوازشریف کی کامیابی اور اس کے بعد دونوں جانب سے دکھائی جانے والی گرم جوشی سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے میں پیش رفت ہوگی۔

بھارتی تجزیہ نگار جتن ڈیسائی کہتے ہیں کہ’ہندوستان کی حکومت اس کے لوگ اور سول سوسائٹی ان تینوں کو نوازشریف سے بہت سی امیدیں ہیں۔نوازشریف نے بھی اپنی الیکشن مہم کے دوران اور پھر وزیراعظم بننے کے بعد جو بھی بیان دیے وہ ہر حوالے سے مثبت ہی رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ’ہندوستان کی حکومت نے بھی ان تمام اشاروں کو بہت مثبت انداز میں لیا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم کے خصوصی ایلچی نے نوازشریف سے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد رائیونڈ میں ملاقات کی اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔‘

پاکستان میں نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بات صرف مثبت بیانات تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں تیزی لانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

وزیرِاعظم نوازشریف نے شہریار خان کو بھارت سے چینل ٹو ڈپلومیسی کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔ انھوں نے چند ہفتے پہلے نئی دلی میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور انھیں پاکستان کے وزیرِاعظم کا خط پہنچایا جس میں خطے میں قیامِ امن کے لیے تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ان تمام کوششوں اور خواہشوں کے باوجود نوازشریف کس حد تک نئی دلی کے ساتھ تعلقات آگے بڑھا سکیں گے۔ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم اس حوالے سے کچھ زیادہ پر اعتماد نہیں۔

Image caption پاکستان میں تو نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے تاہم بھارت میں آئندہ برس ہونے والے انتخابات بھی پاک بھارت تعلقات کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں

انھوں نے کہا کہ ’نوازشریف نے پہلے بھی اس حوالے سے اچھی کوششیں کیں۔ واجپائی کی پارٹی پاکستان کو تسلیم نہیں کرتی تھی لیکن وہ پاکستان آئے اور پھر کارگل کردیا گیا۔ کارگل کیا ہی اس لیےگیا تھا کہ امن کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’جب زرداری صاحب نے ڈائیلاگ شروع کیا تو ممبئی حملے ہوگئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوازشریف کو کوئی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے کیونکہ پھر یہ نہ ہو کہ کوئی کارگل یا ممبئی ہوجائے اور مذاکرات پھر تعطل کا شکار ہوجائیں۔‘

بھارت کے نزدیک تجارت زیادہ اہم ہے اور پاکستان سیاسی تنازعوں کے حل پر زور دیتا آیا ہے۔ماضی میں پاکستان کئی مرتبہ بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک دینے کا اعلان کرچکا ہے لیکن ہمیشہ ہی سیاسی مسائل آڑے آتے رہے۔

سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک کہتے ہیں کہ سیاسی مسائل حل کیے بغیر آزادانہ تجارت کا ہدف حاصل کرنا شاید اتنا آسان نہیں۔

’میں تو گذشتہ پندرہ برس سے ان مذاکرات اور کاوشوں کا حصہ رہا ہوں، تجارتی وفود کا تبادلہ ہوتا ہے، تحقیق کرکے تجاویز تیار کی جاتی ہیں لیکن آخر میں بات بنتے بنتے رہ جاتی ہے۔ ویسے بھی صرف باتوں اور مذاکرات سے کام نہیں چلتا جب تک کہ عملی طور پر اقدامات نہ کیے جائیں اور دل نہ کھولے جائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’لیکن چونکہ سیاسی مسائل پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو دونوں ملکوں میں بداعتمادی کی فضا رہتی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ہم سرمایہ کاری کریں یا بھارت سے بجلی لے لیں اور پھر دونوں ممالک میں کوئی تنازعہ کھڑا ہوجائے اور ایک ہی لمحے میں سب کچھ بند ہوجائے۔‘

پاکستان میں تو نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے تاہم بھارت میں آئندہ برس ہونے والے انتخابات بھی پاک بھارت تعلقات کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

بھارتی صحافی کلپنا شرما کے اس حوالے سے کچھ خدشات ہیں۔

’اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں آئندہ انتخابات میں بھارت میں برسراقتدار آگئیں تو ان کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔ اگر ایڈوانی جیسے لوگ پارٹی میں اہم رہے تو بی جے پی حکومت میں بھی امن عمل آگے بڑھتا رہے گا۔ اور اگر سخت گیر موقف رکھنے والے رہنما حاوی ہوئے تو پھر مسائل ہوں گے۔‘

نوازشریف کی حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بھی بھارت سے تعاون کی خواہش مند ہے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ اعتماد کی مکمل بحالی تک ایسے منصوبوں پر عملاً کوئی پیشرفت ناممکن نہیں تو کافی مشکل ضرور ہے۔

اسی بارے میں