صدارتی انتخاب وقت پر ہی ہو گا:الیکشن کمیشن

Image caption آئین کے مطابق صدارتی عہدے کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ پہلے صدارتی انتخابات کروانے ضروری ہوتے ہیں

الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کو وقت سے پہلے کروانے سے متعلق وزارتِ قانون کی درخواست کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ صدارتی انتخابات وقت مقررہ یعنی چھ اگست ہی کو ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیشن کے ارکان کی اکثریت نے وزارتِ قانون کے اس خط کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ صدارتی انتخابات وقت پر ہی ہونے چاہییں۔

اُنہوں نے کہا کہ وزارتِ قانون کو ابھی اس ضمن میں تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی وزارتِ قانون کی طرف سے کوئی نیا خط الیکشن کمشن کو موصول ہوا ہے۔

حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن کو چند روز قبل ایک خط لکھا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ چھ اگست رمضان کے آخری عشرے میں آ رہا ہے اس لیے بہت سے ارکان پارلیمنٹ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جائیں گے جب کہ اس کے علاوہ بہت سے ارکان پارلیمنٹ اعتکاف میں بھی بیٹھ جائیں گے اس لیے انتخابات کو اس بسے پہلے کروا لیا جائے۔

آئین کے مطابق صدارتی عہدے کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ پہلے صدارتی انتخابات کروانے ضروری ہوتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے عہدے کی مدت آٹھ ستمبر کو ختم ہور ہی ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 24 جولائی کو کاغذاتِ نامزدگی داخل کروائے جائیں گے جب کہ 26 جولائی کو ان کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور 29 جولائی تک کاغذات واپس لیے جا سکیں گے۔

حکومت کی خواہش ہے کہ 30 یا پھر 31 جولائی کو صدارتی انتخاب کروایا جائے۔

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے صدراتی اُمیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کردی ہے اور بہت جلد اُن کی جماعت کی طرف سے اُمیدوار کا اعلان کردیا جائے گا۔

حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے سنیٹر رضا ربانی کو اپنا صدارتی اُمیدوار نامزد کیا ہے جب کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق بھی اپنے اپنے اُمیدوار لانے کے بارے میں لائحہ عمل کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔

اسی بارے میں