عوام آن لائن ایف آئی آر کے نظام سے خوش

Image caption اس نظام کے تحت لوگ اب گھروں میں بیٹھ کر کسی بھی مسئلے کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے سے ایف آئی آر درج کراسکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے پشاور شہر کے ایک نوجوان ارسلان خان کےلیے یہ بات اب بھی ناقابل یقین ہے کہ بغیر سفارش اور رشوت کے، دوکان میں بیٹھے بیٹھےمحض ایک شکایت درج کرانے سے ان کا ایک پرانا مسئلہ حل ہوا۔

صوبائی پولیس کی ویب سائٹ کے ذریعے سے درج کی گئی ایک ایف آئی آر پر پولیس نے فوری کارروائی کی اور اس طرح ان کے لین دین کا ایک دیرینہ معاملہ باآسانی حل ہوگیا۔

اندرون شہر کے علاقے کوہاٹی سے تعلق رکھنے والے ارسلان خان کا کہنا ہے کہ انہیں آن لائن ایف آئی ار کے اجراء کے بارے میں اخبارات سے معلوم ہوا۔ ان کے بقول ’میں نے ایسے ہی ایک آزمائش کے طورپر انٹرنیٹ کے ذریعے ایک شکایت درج کروائی کیونکہ میرا بھی ایک شخص کے ساتھ کافی عرصہ سے لین دین کا ایک معاملہ چل رہا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ شکایت درج کرانے کے ٹھیک دو دن بعد پولیس کی طرف سے ان سے رابطہ کیاگیا اور انہیں تھانے طلب کرکے وہاں ان کی رقم کا تنازع حل کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آرہا کہ اتنا جلدی اور بغیر سفارش و رشوت کے نہ صرف ان کا مسئلہ حل ہوا بلکہ ان کے مخالف فریق کی طرف جو پیسے بنتے تھے وہ بھی ان کو پولیس کی مدد سے پورے کے پورے مل گئے۔

صوبہ خیبر پختون خوا میں پولیس نظام میں بہتری لانے کےلیے پہلی مرتبہ آن لائن ایف آئی ار سسٹم کو متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت لوگ اب گھروں میں بیٹھ کر کسی بھی مسئلے کے بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے سے ایف آئی آر درج کراسکتے ہیں۔

اس نئے نظام سے بظاہر اب پولیس اہلکاروں کو تھانوں میں اپنی روایتی من مانی یعنی ایف آئی ار کے اندراج سے انکار کرنا جیسے حیلوں بہانوں کا موقع نہیں ملے گا۔ اس سے پہلے پولیس اہلکاروں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ایف آئی ار کے اندراج میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں آن لائن ایف آئی آر سسٹم کا منصوبہ ابھی نیا نیا ہے۔ اس منصوبے کی نگرانی کےلیے ڈی آئی جی رینک کے افسر کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس پراجیکٹ کے لیے کنٹرول روم سنٹرل پولیس آفس پشاور میں قائم کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ کے ذریعے سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے طریقۂ کار کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے سب سے پہلے کنٹرول روم میں تحریری شکایت موصول ہوتی ہے جس کے بعد وہ شکایت متعلقہ تھانے کو بھیجی جاتی ہے۔

تھانے میں ابتدائی تفتیش کے بعد ہی فیصلہ ہوتا ہے شکایت کو ایف آئی آر میں تبدیل کیا جائے یا نہیں کیونکہ پولیس افسران کے مطابق کئی ایسی شکایات ہوتی ہیں جس میں ایف آئی ار درج کرانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

سنٹرل پولیس آفس پشاور میں تعینات اس منصوبے کے ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی نوید گل کا کہنا ہے کہ ’اس پراجیکٹ کے اجراء کا بنیادی مقصد عوام کو ان کے دھلیز پر سہولت دینا اور پولیس نظام میں بہتری لانا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اب صوبے کے کسی بھی تھانے میں کوئی بھی شخص بغیر کسی خوف و خطر کے کسی کے خلاف آن لائن رپورٹ درج کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر پولیس سٹیشن میں فوکل پرسن مقرر کئے گئے ہیں جن کا کام ان شکایات کا جائزہ لینا اور ان کو ایف آئی آر میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ایف آئی آر کے اندراج میں نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں اور نہ ہی تھانے کے عملے پر چیک رکھنے کےلئے کوئی نیا طریقہ کار بنایا گیا ہے۔

پشاور کے سینیئر صحافی علی حضرت باچا کا کہنا ہے کہ تھانوں کے بادشاہ ایس ایچ او اور محرر ہوتے ہیں اور جب تک ان کو اعلی تربیت نہیں دی جاتی اور ایماندار اہلکاروں کو تھانوں میں تعینات نہیں کیا جاتا اس وقت تک پولیس سٹیشن کا ماحول تبدیل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ تھانوں کے عملے کو خصوصی تربیت دینی چاہیے اور وہاں تعلیم یافتہ افراد کو مقرر کیا جائے جبکہ ان کو عوام سے بھی اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں