غیرت کے نام پر بیٹی بچوں سمیت قتل

Image caption پاکستان میں خواتین پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف غیر سرکاری تنظیمیں احتجاج کرتی رہتی ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے ایک قصبے میں غیرت کے نام پر ایک شخص نے اپنی بیٹی اس کے شوہر اور کمسن بچوں سمیت چھ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق دیپالپور کی رہائشی مقتولہ شہناز بی بی نے پانچ سال پہلے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اپنی پسند کی شادی کر لی تھی اور گھر بار چھوڑ دیا تھا۔شہناز بی بی اپنے شوہر طاہر سرور کے ساتھ پانچ سال تک اپنے گاؤں سے دور چھپ کر زندگی بسر کرتی رہی۔

چند روز قبل وہ اپنے بچوں اور شوہر سمیت واپس گاؤں تارا سنگھ آ گئی۔پولیس کے مطابق اس کے والد شوکت میو کو اس کی پسند کی شادی کی رنج تھا۔

پیر اور منگل کی شب ملزم شوکت میو اپنے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ اپنی بیٹی کے گھر داخل ہوا اور فائرنگ کر کے شہناز بی بی اس کے شوہر طاہرسرور، دو سالہ بیٹے عریش طاہر، آٹھ ماہ کے بیٹے عدنان شہناز، سسرالی رشتہ دار مہمان بائیس سالہ زاہد سرور اور پندرہ سالہ حمزہ نواز کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان مفرور ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پنجاب میں غیرت کے نام پر جہاں عورتوں کو انفرادی سطح پر قتل اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں پورے پورے خاندان کے قتل کی بہیمانہ روایت بھی موجود ہے اور ہر سال کئی خاندان قتل کر دیے جاتے ہیں۔

گذشتہ دور حکومت میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون کو مزید سخت بنایا گیا تھا لیکن خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انسانی حقوق کمشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار گیارہ میں پاکستان میں ساڑھے نو سو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا اور ان میں سے صرف بیس خواتین ایسی تھیں جنہیں مرنے سے پہلے کوئی طبی امداد دی جا سکی۔

اس رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو سو انیس افراد کو پسند کی شادی کرنے پر ہلاک کیا گیا۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق غیرت کے نام پر سب سے زیادہ قتل پنجاب میں کیے جاتے ہیں اور صوبہ سندھ کا اس معاملے میں دوسرا نمبر ہے۔

اسی بارے میں