سوات:تھانوں میں خواتین کے لیے الگ کاؤنٹر

Image caption سوات کی روایات اور اقدار کے مطابق یہاں کی خواتین پردے کی پابند ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے ’تھانہ کلچر تبدیلی مہم‘ کے تحت سوات میں پہلی مرتبہ تھانوں میں خواتین کے لیے الگ رپورٹنگ سنٹرز کا آغاز کیا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں سوات کے تین تھانوں مینگورہ، رحیم آباد، سیدو شریف اور سیدو شریف کے ہی ہسپتال میں وومن پولیس رپورٹنگ سنٹرز نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر شیر اکبر خان نے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ ’سوات ایک دیہاتی علاقہ ہے، اس علاقے کی روایات اور اقدار کے مطابق یہاں کی خواتین پردے کی پابند ہیں اس لیے ہم خواتین کو تھانوں کے اندر ایسا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں پر خواتین بغیر خوف و ہراس، خود کو محفوظ تصور کریں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’تھانوں کے اندر وومن پولیس کاونٹرز بنائے گئے ہیں جہاں تعلیم یافتہ اور قابل خواتین پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ظلم کا شکار خواتین اپنی درخواست اور فریاد ان کے سامنے آسانی کے ساتھ رکھ سکیں گی اور ان کے مسئلے فوری طور پر حل ہو سکیں گے‘۔

شیر اکبر خان کے مطابق روایتی تھانہ کلچر کے باعث پولیس اور عوام کے درمیان دوریاں بڑھ گئی تھیں اور بعض پولیس افسران اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نئی حکومت اور صوبائی پولیس ہیڈ کوارٹر کی پالیسی یہ ہے کہ ایک ایسا عمل شروع کیا جائے جو خود احتسابی پر مبنی ہو اور عوام کو دوستانہ ماحول فراہم ہو سکے تا کہ ظلم کا شکار فرد تھانے میں مذید ہراساں نہ ہو۔

وومن پولیس کاونٹر پر موجود لیڈی کانسٹیبل سائرہ نے بتایا کہ آج کل خواتین پر تشدد کے کیسز زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں جس میں زیادہ تر گھریلو تشدد کے کیسز شامل ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے میں ظلم کا شکار خواتین تھانوں میں مرد پولیس افسر کے مقابلے میں اپنی فریاد خواتین پولیس کے سامنے بہتر طریقے سے بیان کرسکیں گی جس بنا پر انہیں فوری انصاف اور قانونی مدد فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

سوات میں خواتین جرگے کی سربراہ تبسم عدنان کا کہنا ہے کہ ’وومن پولیس رپورٹنگ سنٹرز کا قیام ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ یہاں پر ان کی بہت ضرورت تھی اب خواتین کو انصاف کے حصول میں آسانی ہوگی کیونکہ پہلے کوئی خاتون اپنے حق کے لیے تھانے نہیں جا پاتی تھی۔ اس لیے کہ وہاں پر عملے کے تمام ارکان مرد ہوا کرتے تھے۔ زیادہ تر لیڈی کانسٹیبلز یا تو تلاشی کے لیے رکھی جاتی ہیں یا وہ پارکس میں ہوتی ہیں یا وہ کسی کے ہاں چوکیداریاں کرتی ہیں‘۔

ان کے مطابق ’خواتین پولیس کو اخلاقی تربیت دینے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اگر کوئی خاتون ان سنٹرز پر جاتی ہے تو کم از کم یہ ان کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئیں تا کہ کل یہ خاتون ظلم کے شکار دوسری خاتون کو بھی کہہ سکیں کہ اپنی فریاد تھانے لےکر جائیں وہاں ہماری بہنیں بیھٹی ہوئی ہیں وہ آپ کو انصاف فراہم کرنے کی پوری کوشش کریں گی‘۔

عوامی حلقوں کی جانب سے یہ امید کی جارہی ہے کہ وومن پولیس رپورٹنگ سنٹرز خواتین کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنے اور انہیں فوری انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسی بارے میں