بے ضرر اور فرماں بردار صدر

Image caption ممنون حسین سنہ 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے

پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے صدارتی منصب کے امیدوار ممنون حسین مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تاجر اور غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔

ممنون حسین سنہ 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے، پاکستان کے قیام کے بعد کئی دیگر خاندانوں کی طرح ان کا خاندان بھی نقل مکانی کرکے پاکستان آ گیا۔

انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویٹ ممنون حسین کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر وہ سنہ 1970 سے مسلم لیگ سے منسلک رہے ہیں۔

سنہ 1993 میں جب پاکستان کے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی تو ان دنوں ہی ممنون حسین شریف برادران کے قریب پہچنے اور بعد میں وہ مسلم لیگ سندھ کے قائم مقام صدر سمیت دیگر عہدوں پر فائز رہے۔

ممنون حسین سنہ 1997 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر رہے، سنہ 1999 میں انہیں گورنر مقرر کیا گیا، مگر صرف چھ ماہ بعد ہی میاں نواز شریف کی حکومت کا تخہ الٹ گیا اور وہ معزول ہوگئے۔

کراچی کے علاقے جامع کلاتھ مارکیٹ بندر روڈ پر ممنون حسین کپڑے کی تجارت کرتے رہے ہیں، اسی علاقے میں ان کا گھر بھی تھا بعد میں وہ شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں منتقل ہوگئے۔

میاں نواز شریف کے دورِ اسیری اور جلاوطنی کے بعد مسلم لیگ نواز کے احتجاج میں ممنون حسین شاذو نادر ہی نظر آتے تھے، ان کا کردار انتہائی غیر متحرک رہا۔

سندھ میں مسلم لیگ نواز کی شناخت سید غوث علی شاہ، الہی بخش سومرو، سلیم ضیا، سردار رحیم اور علیم عادل شیخ بنے ہوئے تھے۔ علیم عادل شیخ مسلم لیگ ق میں چلے گئے، سردار رحیم نے مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کی اور الہی بخش سومرو نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد ممنون حسین دوبارہ منظرِ عام پر آئے، انھیں مسلم لیگ نواز کے جلسے اور جلوسوں میں انتہائی کم گو دیکھا گیا ان کی تقریر سیاست کی بجائے میاں نواز شریف کی شخصیت کے گرد گھومتی تھی۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ نواز نے کراچی سے تعلق رکھنے والی قیادت کا دوسری بار انتخاب کیا ہے، ممنون حسین سے پہلے مشاہد اللہ کو پنجاب سے سینیٹر منتخب کرایا گیا، صدارتی امیدوار کی دوڑ میں پرانے لیگی سید غوث علی شاہ بھی شامل تھے، جو اسیری اور جلاوطنی میں میاں نواز شریف کے ساتھ رہے لیکن بعد میں ان کا نام امیدواروں کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صدر پاکستان کا کردار روایتی بن چکا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز اس سے اردو بولنے والی کمیونٹی اور تاجروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انھوں نے ان کے نمائندے کا انتخاب کیا ہے۔

میاں نواز شریف کے لیے ممنون حسین بھی رفیق تارڑ کی طرح بے ضرر اور فرماں بردار صدر ثابت ہوں گے۔

اسی بارے میں