سکھر:آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ، 5 ہلاک

Image caption ’بظاہر ایسا لگتا ہے ان دھماکوں میں آئی ایس آئی کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے اور بم دھماکوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پولیس حکام کے مطابق 4 حملہ آور بھی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق بدھ کی شام شہر کی بیراج کالونی میں پہلے حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا جس کے بعد وہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفترمیں داخل ہوگئے اور وہاں دستی بم پھینکے۔

آئی ایس آئی نشانے پر

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکے ہوئے اسی علاقے میں آئی ایس آئی کے دفتر کے علاوہ ضلع کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ججوں کی رہائش گاہ موجود ہیں جو دھماکے سے متاثر ہوئی ہیں۔

سکھر پولیس کے ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے ان دھماکوں میں آئی ایس آئی کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ حملہ آوروں نے گاڑی میں دھماکے کے بعد ایجنسی کے دفتر کے احاطے میں گھس کر دستی بم پھینکے اور پھر ان میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلے میں مزید دو حملہ آور مارے گئے اور اب علاقے کا سرچ آپریشن مکمل کر کے اسے کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد فوراً بعد جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ایدھی کے اہلکاروں کے مطابق پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جاری مقابلے کے باعث امدادی کارروائیاں بھی متاثر ہوئیں۔

دھماکوں کے بعد شہر کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت بھی نافذ کر دی گئی تھی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے اس واقعے میں پانچ ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ سکھر میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ 38 زخمی سول ہپستال پہنچائے ہیں جن میں خواتین، بچے، پولیس اور رینجرز اہلکار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک لاش کو پنوں عاقل کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ مرنے والوں کی شناخت کے بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا گیا۔

خیال رہے کہ سکھر پاکستان کے ان شہروں میں سے ہے جو دہشتگردی کی کارروائیوں سے اب تک محفوظ رہے ہیں تاہم فوج کی خفیہ ایجنسی کے دفاتر ملک کے مختلف شہروں میں دہشتگردوں کا ہدف رہے ہیں۔

اسی بارے میں